The news is by your side.

Advertisement

سعودی قانون: کس صورت میں کارکن بغیر نوٹس ملازمت چھوڑ سکتا ہے؟

سعودی میگزین نے سعودی عرب میں کام کرنے والے غیرملکیوں سے متعلق ’قانون محنت‘ شائع کردیا، جس کی مدد کارکن بغیر نوٹس نوکری ترک کرنے کا جواز جان سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ دنیا بھر میں پرکشش تصور کی جاتی ہے لیکن اس کے کچھ قانون وضع کیے گئے ہیں حکومت کی جانب سے جس میں آجر اور اجیر کے حقوق، دو جگہ کام کرنا اور کارکن کی رضامندی کے بغیر اجرت میں کٹوتی اور بغیر نوٹس نوکری ترک کرنے سے متعلق بتایا گیا ہے۔

قانون محنت میں بتایا گیا ہے کہ سفر پابندیوں کے بعد مسافروں کے اقامے میں خروج وعودہ سے متعلق الجھنیں ہوتو کو بغیر نوٹس کارکن نوکری ترک کرنے کا مجاز ہے اور اگر آجر کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے تو ایسی صورت میں بھی کارکن بغیر نوٹس ملازمت ترک کرسکتا ہے۔

اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ملازمت کا معاہدہ مرتب کرتے ہوئے آجر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ نمائندے کے معاہدے میں جعل سازی کی گئی ہے اور اگر آجر کی جانب سے کارکن کو ایسے کام پر مجبور کیا جائے جو معاہدے میں درج نہ ہو تو بھی کارکن بغیر نوٹس ملازمت چھوڑنے کا مجاز ہے۔

اگر آجر ، اسکے اہل خانہ یا کمپنی کے ذمہ دار کی جانب سے کارکن کی توہین کی جائے اسکے ساتھ زیادتی کی جائے اور آجر یا کمپنی کے ڈائریکٹر کا کارکن کے ساتھ درست رویہ اختیار نہ کرے تو کارکن نوکری چھوڑسکتا ہے۔

سعودی عرب کے قانون محنت میں بتایا گیا ہے کہ اگر کام کی جگہ کارکن کے لیے جسمانی یا صحت کے لیے خطرے کا باعث ہو جس کے بارے میں کارکن کو آجر کی جانب سے پہلے تفصیلی طور پر آگاہ نہ کیا گیا ہو اور آجر کارکن کی شکایت کرنے کے باوجود اسے دور کرنے کی کوشش نہ کرے تو کارکن بغیر نوٹس ملازمت سے دستبردار ہوسکتا ہے۔

محنت قانون کے مطابق اگر آجر یا اس کے نمائندے کی جانب سے ورک ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کی جائے تو کارکن بغیر نوٹس اپنی نوکری چھوڑ سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں