The news is by your side.

Advertisement

’یمن میں سعودی اتحاد نے گذشتہ سال 47 ماہی گیروں کو ہلاک کیا‘

صنعا: ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں سعودی اتحادی افواج نے گذشتہ سال 47 ماہی گیروں کو ہلاک کیا۔

تفصیلات کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی اتحادی افواج نے یمن میں کشتیوں پر بمباری کرکے 2018 میں تقریباً 47 ماہی گیروں کو ہلاک کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 2018 میں ہونے والی بمباریوں میں یہ ہلاکتیں صرف ماہی گیروں کی ہیں جبکہ بچوں عورتوں سمیت سینکڑوں عام شہری بھی مارے گئے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلو) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال ماہی گیروں پر پانچ فضائی حملے ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں کم عمر مچھیرے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ کے ضلع حیس میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں کے گھروں پر توپ سے گولہ باری کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائدشدید زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے حیس شہر پر ایک بار پھر توپ کے گولے اور کیٹوشیا راکٹ برسائے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج فراہم کرنے کے لیے فیلڈ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یمن: سعودی اتحادی افواج کا ایک بار پھر فضائی حملہ، 22 عام شہری ہلاک

حوثی ملیشیا نے توپ کے گولوں کے علاوہ مارٹر گولے شہریوں کے گھروں کی جانب داغے۔ اس دوران مارٹر گولے حیس ضلع کے وسط میں گرے اور شہریوں کے گھروں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔

ذرائع نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا نے حالیہ عرصے میں الحدیدہ صوبے کے مختلف ضلعوں اور علاقوں میں شہریوں کے گھروں کو جنونی صورت میں بم باری کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے باغیوں کے ان سنگین جرائم کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں