The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ میں قید انسانی حقوق کی علمبردار تین خواتین عارضی طور پر رہا

ریاض : سعودی حکام نے انسانی حقوق کی علمبردار اور حقوق نسواں کیلئے جدوجہد کرنے والی تین خواتین رضاکاروں کو عارضی طور پر رہا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے انسانی حقوق کی علمبردار متعدد خواتین رضاکاروں کو ایک برس قبل سعودی حکومت کے خلاف اور خواتین کی آزادی کےلیے آواز اٹھانے پر گرفتار کیا تھا جن میں سے تین رضاکار خواتین کو عدالت نے عارضی طور پر رہا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے اتوار تک مزید خواتین کی رہائی متوقع ہے، جنہیں غیر ملکیوں سے رابطوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانیہ کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی سعودی تنظیم اے ایل کیو ایس ٹی کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والی خواتین میں ایمان الفجان، عزیزہ یوسف اور رقیہ المحارب شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان لین مالوف نے خواتین رضاکاروں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ رہائی مستقل ہونی چاہیے کیونکہ ان خواتین کو حقوق نسواں کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں قید کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ خواتین صرف پُر طریقوں سے حقوق نسواں کےلیے جدوجہد کررہی تھیں جس کی پاداش میں انہیں اپنے عزیزوں سے دور کرکے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ رہائی پانے والی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی دیگر خواتین پر عائد الزامات ختم کرکے انہیں بھی غیر مشروط رہائی دے۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق اور حقوق نسواں کےلیے کوششیں کرنے والی گیارہ خواتین کو گزشتہ برس جون میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : سعودیہ میں‌ قید خواتین رضاکار ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش

یاد رہے کہ کچھ ماہ قبل برطانیہ کی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب سے متعلق اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے صوبے جدہ کی دھابن جیل میں قید انسانی حقوق کی عملبردار خواتین کو دوران تفتیش جنسی زیادتی، تشدد اور دیگر ہولناک زیادتیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں : سعودیہ میں قید خواتین رضاکاروں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنینشل نے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گرفتار خواتین رضاکاروں کو دوران تفتیش بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور اس قدر کوڑے مارے گئے ہیں کہ متاثرہ خواتین کھڑی ہونے کے بھی قابل نہیں رہیں۔

جاری رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تفتیش کاروں نے کم از کم 10 خواتین کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تفتیش کاروں نے جبراً ایک دوسرے کو بوسہ دینے پر مجبور کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں