The news is by your side.

Advertisement

کفالہ نظام کے خاتمے سے متعلق سعودی عرب کی اہم وضاحت

ریاض: سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل و افرادی قوت نے کفالت کا نظام ختم کرنے سے متعلق اہم وضاحت جاری کردی۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت انسانی وسائل و افرادی قوت کے ترجمان ناصر الہذانی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’کفالت کے نظام کو ختم کرنے کا فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’وزارت مزدوروں کی مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے متعدد فارمولوں پر کام کررہی ہے، جیسے ہی کسی بات پر اتفاق ہوا یا منظوری دی گئی تو اعلان کردیا جائے گا‘۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق کفالت کا نظام ختم یا اُس میں تبدیلیوں کے حوالے سے انٹرنیٹ پر خبریں زیر گردش تھیں جس کی وجہ سے غیرملکی ملازمین کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔

وزارتِ افرادی قوت کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی فارمولے کا اعلان سرکاری سطح پر کیا جائے گا، لہذا بے بنیاد خبروں پر کان نہ دھریں اور مصدقہ معلومات سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کریں۔

کفالہ نظام کیا ہے؟

کفالہ کے نظام کا اطلاق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں پر ہوتا ہے، جس کے  تحت کسی بھی خلیجی ملک میں کام کرنے کے لیے غیر ملکی کارکن کو ایک کفیل کی ضرورت پیش آتی ہے جو  اس کے قانونی معاملات، رہائش اور ملازمت کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ غیرملکی کارکن کی ذمہ داری اٹھانے کا بھی اعلان کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی شہریوں کو برسر روزگار کرنے کا مشن، غیرملکی ملازمین پریشان

قانون کے تحت غیرملکی ملازم کو اپنی اہم دستاویزات کفیل کے پاس جمع کرانا ہوتی ہیں، کسی بھی کمپنی کو بغیر کفیل کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی حتی کہ وہ ملازمین کی بھرتیوں کے لیے بھی کفیل سے ہی اجازت مانگتی ہے۔

خلیجی ملک میں آمد کے بعد کفیل اپنے ماتحت کام کرنے والے کارکنوں کی تمام معاشی اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ کارکن اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر  ملازمت تبدیل اور نہ ہی وہ ملک چھوڑ سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں