ریاض : باپ کو قتل کرنے والے سفاک بیٹے کا سر قلم saudia-death-sentence
The news is by your side.

Advertisement

ریاض : باپ کو قتل کرنے والے سفاک بیٹے کا سر قلم

ریاض : سعودی حکومت نے باپ کو قتل کرنے اور لاش کی حرمت پامال کرنے کا جرم ثابت ہونے پر بدھ کے روز بیٹے کو سزائے موت دیتے ہوئے اُس کا سر قلم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ریاست سعودی عرب میں وزارت داخلہ نے باپ کو قتل کرنے کے بعد پیٹرول چھڑک کر لاش کو نذر آتش کرنے والے سفاک بیٹے کی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے قاتل کا سر قلم کردیا گیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ شخص نے اپنے والد کو اُس وقت قتل کیا تھا جب وہ گھر میں استراحت کر رہے تھے، بیٹا ترکی بن محمد بن ساری القحطانی کارروائی کے بعد فرار ہوگیا تھا جسے پولیس نے تلاش کر کے گرفتار کیا۔

سعودی پولیس کا کہنا تھا کہ سفاک بیٹے کو حراست میں لینے کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تفتیش کی گئی تو درندہ صفت بیٹے نے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جرم کا اعتراف کرنے کے بعد مجرم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے جج کے سامنے اپنی درندگی پر اظہارِ ندامت کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی عدالت نے شاہی فرمان کے تحت مقتول کا قصاص لینے کے لیے مجرم کو سزائے موت دیتے ہوئے بدھ کے روز اُس کا سرقلم کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں سماجی جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، جس نے اللہ کی حدود عبور کیں اسے شریعت محمدی کے تحت سزا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں سعودی عدالت نے 6 پاکستانیوں پر انسانی اسمگلنگ کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی تھی علاوہ ازیں پانچ سعودی باشندوں کے بھی سر قلم کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سر قلم کیے گئے افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن افراد کے سرقلم کیے جاتے ہیں ان میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی، قتل، زیادتی، مسلح ڈکیتی کے جرائم شامل ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس سعودی عرب میں ان جرائم پر 153 افراد کو سر قلم کی سزا دی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں