The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی پیشکش قبول کرلی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی پیشکش قبول کرلی، جس کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے چار سو ساٹھ ارب سات سال میں ادا کرنےہیں، تمام رقم بحریہ ٹاؤن عدالت میں جمع کرائےگی جبکہ نیب کوبحریہ ٹاؤن اورمتعلقہ افرادکےخلاف ریفرنس سے بھی روک دیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کےرہائشیوں کےلیے بڑی خوشخبری آگئی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی پیشکش قبول کرلی اور نیب کو بحریہ ٹاؤن اور متعلقہ افرادکے خلاف ریفرنس سے بھی روک دیا، اعلی عدالت کی جانب سے پیشکش قبول کرنے پر کمرہ عدالت تالیوں سےگونج اٹھا۔

بحریہ ٹاؤن نے چار سوساٹھ ارب سات سال میں ادا کرنے ہیں، مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹائون کے نام منتقل ہوگی اور بحریہ ٹاؤن رہائشیوں کو ننانوے سال کی لیز دے گا۔

فیصلےکے مطابق بحریہ ٹاون پچیس ارب روپے ستائیس اگست تک عدالت میں جمع کراےگی، اس کے بعد پہلی قسط ڈھائی ارب روپے کی یکم ستمبرکو دے گی پھر بحریہ ٹاون ساڑھے چار سال ڈھائی ارب روپے ماہانہ دے گا جبکہ باقی رقم کی مکمل ادائیگی تین سال میں ادا کی جائےگی ۔

حکم نامےمیں کہاگیا کہ بحریہ ٹاون اگر اقساط کے ادائیگی میں تاخیر کرےگا تو چار فیصد انٹرسٹ ادا کرے گا، تمام رقم عدالت میں جمع ہوگی پھر اس کو قانون مطابق جس کودینی ہے دیں گے۔

سپریم کورٹ نے رقم کی ادائیگی سے متعلق بحریہ ٹاون کے ڈائریکٹر کو بیان حلفی بھی جمع کرانے کا حکم دیا۔

یاد رہے 4 جنوری کوسپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے تمام منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اکاؤنٹ منجمد کرنے کا نہیں بلکہ صرف مانیٹرنگ کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں