The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عاصمہ رانی قتل کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عاصمہ رانی قتل کیس کا فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے خلاف اپیل پر تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ عاصمہ رانی قتل کیس سے متعلق سماعت ہوئی، سماعت کے دوران عدالت نے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ رجسٹرار آفس کو بھجوا دیا ۔

وکیل ملزم صادق نے کہاکہ عاصمہ رانی کا قتل ذاتی شمنی ہے ،دہشت گردی نہیں ،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ذاتی رنجش پر قتل ہوا، پشاور ہائیکورٹ نے دہشت گردی کی دفعات شامل رکھیں ،ذاتی دشمنی دہشت گردی کیسے ہو گیا؟

جس پر عدالت نے ٹرائل کورٹ کو عاصمہ رانی قتل کیس کا فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے خلاف اپیل پر تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی ہدایت کردی اور کیس کی سماعت دس روز کے لیے ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں : شادی سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

یاد رہے کہ 29 جنوری کو کوہاٹ میں مجاہد آفریدی نے رشتے سے انکار پر میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا، جس کے فوری بعد ملزم سعودی عرب فرار ہو گیا تھا۔

بعد ازاں ملزم مجاہد آفریدی کو انٹرپول کے ذریعے شارجہ سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ مرکزی ملزم مجاہدآفریدی کے دوست شاہ زیب کو گرفتار کرلیا تھا، ملزم شاہ زیب مقتولہ کی ریکی کرتا تھا اور قتل کے بعد مجاہد آفریدی کو فرار کرانے میں بھی شاہ زیب نے مدد فراہم کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں