پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول کی تعیناتی کالعدم قرار
The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول کی تعیناتی کالعدم قرار

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان نے پی آئی اے کے سی ای اومشرف رسول کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا سی ای اوکی تعلیمی قابلیت ایم بی بی ایس ہے، مشرف رسول چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے قابل ہی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پی آئی اے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ سردار مہتاب عباسی کا بطور سیاستدان احترام ہے، اتنے بڑے ادارے کو چلانے کے لئے مہتاب عباسی کو لگا دیا گیا، گورنر کے عہدے سے ہٹا کر عباسی کو سی اے اے میں تعینات کیا گیا جبکہ مہتاب عباسی کا ہوا بازی سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔

وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا سی ای او کے لیے تقرری کا اشتہار 2016 میں دیا گیا، جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے سی ای او کی تعلیمی قابلیت ایم بی بی ایس ہے، نعیم بخاری صاحب آپ نے منا بھائی ایم بی بی ایس فلم دیکھی ہے۔

نعیم بخاری نے جواب میں کہا جی اس فلم میں ایک شخص ڈاکٹر کی طرح اداکاری کرتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا تقرری کے عمل میں سردارمہتاب عباسی کدھر سے آگئے جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سردار مہتاب عباسی کا تقرری کے عمل سے کیا تعلق تھا، تقرری کے لئے کمیٹی طریقہ کار کے مطابق تشکیل نہیں دی گئی۔

وکیل نعیم بخاری نے بتایا مشرف رسول20 سال سے مہتاب عباسی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے جب بنیاد ہی غلط ہو تو پوری عمارت گر جاتی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا مشرف رسول کی تعیناتی قانون اوررولز کے خلاف ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا،اب اچھے اچھے لوگ آئیں چیزیں ٹھیک کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے دلائل سننے کے بعد پی آئی اے کے سی ای اومشرف رسول کی تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا اور کہا مشرف رسول چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے قابل ہی نہیں ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں