The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کی شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی مدت سماعت میں 6 ہفتے کی توسیع

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی مدت سماعت میں 6 ہفتے کی توسیع کردی ، احتساب عدالت نے سپریم کورٹ سے سماعت کے لیے مزید وقت کی درخواست کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے احتساب عدالت کی شریف خاندان پر ریفرنسز کی مدت سماعت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کو مزید کتنا وقت درکار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ غالباً ایک ریفرنس پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

وکیل نیب نے بتایا کہ مجموعی طور پر 4ریفرنس تھے، فلیگ شپ انوسمنٹ میں 18 گواہان ہیں، جن میں سے 14 گواہان پر جرح مکمل ہو چکی ہے، 2 گواہوں پرجرح رہتی ہے، 12 جولائی کو سماعت رکھی گئی ہے، آئندہ ریفرنس پر 20 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔

جس کے بعد شریف خاندان پر ریفرنسز کی مدت سماعت میں 6 ہفتے کا مزید وقت دے دیا، سپریم کورٹ نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں سماعت کے لیے توسیع دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں یقین ہےخواجہ حارث دیے گئے وقت میں کاروائی مکمل کریں گے، کیا اب آپ کے میرے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں گے، نیب نے 4 آپ نے 6ہفتے مانگے ،ہم آپ کو 6ہفتے دے رہے ہیں۔

احتساب عدالت نے سپریم کورٹ سے سماعت کے لیے 4 ہفتے کی درخواست کی تھی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنسز میں اس سے پہلے 3 مرتبہ وقت بڑھایا ہے جبکہ  آخری بار احتساب عدالت کو 10 جولائی  تک نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔


مزید پڑھیں : چیف جسٹس کا شریف خاندان کےخلاف ریفرنسزکا فیصلہ ایک ماہ میں سنانےکا حکم


یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا، جس کی مدت آج ختم ہورہی ہے۔

شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں سے صرف ایوان فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ سنایا گیا ہے جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعتیں جاری ہے۔

واضح رہے کہ 6 جولائی کو احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال قید اور جرمانہ، بیٹی مریم نواز کو 7 سال قید اور جرمانہ اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

عدالتی فیصلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں