The news is by your side.

Advertisement

بنی گالہ غیرقانونی تعمیرات کیس، عمران خان کو جواب کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مل گئی

اسلام آباد : بنی گالہ غیرقانونی تعمیرات ازخودنوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو جواب کے لیے ایک ہفتے کاوقت دےدیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیاپرخبرچل رہی ہےآپ کی دستاویزات جعلی ہیں۔

عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ریکارڈ نہیں دیکھا دیکھ کر جواب دے سکتا ہوں، ہم نے جو میڈیا پردیکھااس کی تردید کرتےہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصل ایشو جھیل اورلوگوں کی صحت کا ہے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو جواب کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے راول ڈیم کےگردتعمیرات کی تفصیل مانگی تھی، لیز کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں۔

ایڈیشنل اے جی نے بتایا کہ سرکاری اراضی کی 8لیزکی منظوری سی ڈی اےنےدی ، یہ ساری لیز2007میں15سال کے لیے دی گئی، ایک ایکڑ کی سال کہ ایک لاکھ20ہزار لیز بنتی ہے، لیز لینے والا کمرشل کاروبار کی آمدن کا 5فیصد سی ڈی اے کو دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لیز معاملات کتنے دن میں درست ہونگے، جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ 10دن میں معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ کس قانون کےتحت یہ سرکاری اراضی لیز پر دی گئی، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ یہ لیزز کامران لاشاری کے دور میں دی گئی، جس پر ممبر سی ڈی اے نے کہا کہ 2007 میں قانون میں ترمیم کرکےلیززمین آکشن سےدینےکی شرط ختم کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے، یہ سرکاری زمین آگے لیز پر دے دی گئی ہو، لیززمین حاصل کرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہیں ، دیکھتے ہیں لیز زمین پر کیا ہورہا ہے، چیئرمین سی ڈی اے خود جاکر لیز زمین کا جائزہ لیں اور سرکاری اراضی کی راول ڈیم میں لیز ختم کریں۔


مزید پڑھیں : سپریم کورٹ کا عمران خان کے بنی گالہ میں مکان کی تعمیر کیلئے فراہم کیے گئے نقشے کی تصدیق کا حکم


ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ سرکاری اراضی کی لیز قانونی طریقہ کار سے نہیں ہوتی، جس پر سپریم کورٹ نے کامران لاشاری کو وضاحت کے لیے آئندہ سماعت پرطلب کرلیا اور کہا کہ راول ڈیم میں سرکاری اراضی کی لیز سابق چیئرمین کامران لاشاری دور میں ہوئیں جبکہ سرکاری زمین لیز پر حاصل کرنے والوں کو بھی نوٹس جاری کردئیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ لیز پر سرکاری اراضی پر کمرشل سرگرمیوں پرآمدنی سے متعلق بتایا جائے، چیئرمین صاحب یہ سارے کام آپ نے دھیان سے کرنےہیں،میری بات آپ سمجھ رہے ہیں نا۔

وزیرمملکت کیڈ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ عدالت کی ہدایت پر 14سے16فروری تک بنی گالہ کی جگہوں پر کیمپ لگایا، علاقہ مکینوں سے مسائل کے حوالے سے تجاویز لیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ راول ڈیم میں گندہ پانی جارہا، آپ نے آج تک کیا کیا، جو گندے نالے راول ڈیم میں جارہے ہیں، ان کو7 روز میں بند کردینگے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایم این ایز کی پرچیوں پرگیس کنکشن دینے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شکایات موصول ہوئی ہیں ایم این ایزکی چٹ پر کنکشن دیئےجارہےہیں۔

چیف جسٹس نے وزیر کیڈ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ اختیار ہے پرچی لکھ کربھیجیں، گیس کنکشن دے کرآپ نے ووٹ لینے ہیں، جس پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گیس کنکشن وزیراعظم کی ہدایت پردیئےجاتے ہیں، ایم این ایز کے کہنے پر کنکشن نہیں دیئےجاتے۔

سپریم کورٹ نے محکمہ سوئی گیس سے منگل تک تفصیلات مانگ لیں اور کہا کہ تفصیلات کے ساتھ بیان حلفی جمع کرائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں