The news is by your side.

Advertisement

رحیم یار خان مندر حملہ کیس: سپریم کورٹ کا ملوث ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے رحیم یار خان مندر پر حملے میں ملوث ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم دیتے ہوئے کہا ملزمان کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں رحیم یار خان مندرحملہ کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نےڈپٹی سیکریٹری پنجاب کی رپورٹ غیرتسلی بخش قراردے دی۔

عدالت نے مندرکی تعمیر ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا مندرکی سیکیورٹی کیلئےپولیس،رینجرزکی تعیناتی یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس تفتیش مکمل کرکےچالان فوری عدالت میں پیش کرے، چالان عدالت میں پیش ہونےکےبعدکیس پرمسلسل سماعت کی جائے، پولیس معاملات کوکیوں طول دیتی ہے اس سےپولیس کو کیافائدہ ہوتاہے، شناخت کیلئےتصویریں نادراکوبھجوادیں جو 2 مہینے تک لیکر بیٹھا رہے گا۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ہم نےنادراکو خط بھی لکھا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا کام خط لکھنا نہیں تیزی سے کام کرنا ہے اور ہر15روز میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں سے کلیئر کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ڈاکوؤں سے کلیئر کرا کر کچے میں امن بحال کیاجائے اور پنجاب حکومت اورآئی جی کچے میں سیکیورٹی یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا پاکستان بنےاتناعرصہ ہوگیاہم ڈاکوؤں سے جان نہیں چھڑاسکے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ کچےکا علاقہ سندھ کیساتھ بھی لگتاہے، جس پر چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہرطرف سے ملکرکارروائی کریں توکیسےنہیں کام ہوتا۔

سپریم کورٹ نے رحیم یار خان مندرحملہ ازخودنوٹس کیس میں مندر پر حملے کے ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم دے دیا اور کہا ملزمان کی شناخت کےبعدگرفتاربےگناہ افرادکورہاکیاجائے اور ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیاجائے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ بغیرکسی التواکے4ماہ میں فیصلہ یقینی بنائے ، آگاہ کیا گیاکہ مندرکے اندرونی حصے کی بحالی مکمل ہوچکی ہے تو ، مندر کےبیرونی حصے کوایک ماہ میں مکمل کیا جائے۔

عدالت نے گاؤں بھونگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقراررکھنےکی ہدایت کردی اور بچے کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کیخلاف کارروائی سمیت گرفتار ملزمان کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا حکم دے دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں