میمو گیٹ اسکینڈل، سماعت 8 فروری کو ہوگی، حسین حقانی کو نوٹس جاری hussain haqqani
The news is by your side.

Advertisement

میمو گیٹ اسکینڈل، سماعت 8 فروری کو ہوگی، حسین حقانی کو نوٹس جاری

اسلام آباد : چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ میمو گیٹ اسکینڈل کی سماعت 8 فروری کو کرے گا جس کے لیے سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں.

تفصیلات کے مطابق مشہور زمانہ میمو گیٹ اسکینڈل مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی سربراہی تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے جو 8 فروری کو مقدمے کی سماعت کرے گی.

ذرائع کے مطابق میمو گیٹ اسکینڈل کی ازسرنو سماعت کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیرحسین حقانی کو 8 فروری کو طلب کرلیا ہے.

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو آصف زرداری نے صدر پاکستان بننے کے بعد تعینات کیا تھا تاہم میمو گیٹ اسکینڈل کے بعد سے حسین حقانی پاکستان واپس نہیں آئے.

خیال رہے کہ دو روز قبل سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران موجود چیف جسٹس ثاقب نثار کا میمو گیٹ اسکینڈل کے التواء پر ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کیا حسین حقانی کو بھی ووٹ کا حق دینا چاہیئے؟

انہوں نے مزید کہا تھا کہ کئی لوگ پاکستان میں کیس چھوڑ کر واپس بیرون ملک چلے گئے اور تاحال واپس نہیں آئے ہیں چنانچہ جن کا پاکستان سے تعلق نہیں ہے ان کو ووٹ کا حق کیسے دے سکتے ہیں؟

اس دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ میمو گیٹ میں کیوں نہ حسین حقانی کو نوٹس کریں کہ وہ امریکا سے واپس پاکستان آکر کیس سنیں اور عدالت کے سوالوں کے جواب دیں.


اسی سے متعلق : حقانی وزیراعظم گیلانی کو بھی رپورٹ نہیں‌ کرتے تھے، قریشی کا انکشاف 


یاد رہے کہ 2011 میں امریکا میں تعین پاکستان کے سفیر اور اُس وقت کے صدر آصف زرداری کے قریبی دوست حسین حقانی کی جانب سے امریکی صدر کو خفیہ پیغام پہنچانے کا الزام سامنے آیا تھا جس میں قومی اداروں کے بارے میں منفی تاثر اور حکومت کی مدد کرنے کی التجا کی گئی تھی.

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ حسین حقانی نے امریکی صدر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جس شخص کو استعمال کرنا چاہا تھا وہ پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصوراعجاز تھے جنہوں نے بعد ازاں بلیک بیری پر ہونے والی پیغاماتی گفتگو بطور ثبوت پیش کیے تھے.

اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کیس سماعت کا آغاز کیا تھا اور اعجاز منصور کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلم بند کروایا تھا تاہم حسین حقانی مقدمے کا سامنے کرنے کے بجائے امریکا روانہ ہو گئے تھے اور تاحال وہیں مقیم ہیں.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں