The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا عسکری پارک عوام کے لیے کھولنے کا حکم

سپریم کورٹ کا کارساز، شاہراہ فیصل، راشد منہاس پر قائم تمام شادی ہالز گرانے کا حکم

کراچی : سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پرانی سبزی منڈی پر قائم عسکری پارک عوام الناس کے لیے کھولنے کا حکم دے دیاجبکہ کارساز، شاہراہ فیصل، راشد منہاس پر قائم تمام شادی ہالز گرانے کا حکم بھی دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار کی سربراہی میں عسکری پارک سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں جسٹس گلزار  نے حکم دیتے ہوئے کہا پرانی سبزی منڈی پر قائم عسکری پارک عوام الناس کے لیے کھولا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عزیز بھٹی پارک کوماڈل پارک بنایا جائے، اس شہر کے پارکوں کو شہیدوں کے نام پر بیچ دیا گیا ہے۔

دوران سماعت جسٹس گلزار نے بجلی کی پھیلی ہوئی تاروں پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ تاروں کا جنگل کیوں پھیلا ہوا ہے، کوئی نہیں جو اس شہر کے بارے میں سوچنے والا ہو۔

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصلے میں سخت الفاظ استعمال نہ کیے جائیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے بیان دیتے ہوئے شرما کیوں رہے ہیں، یہ ہمارا ذاتی کام نہیں،  یہ ذمہ داری اداروں کی بنتی تھی۔

جس پر سلمان طالب الدین نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں،  چیف سیکرٹری اور میں مربوط پلان پیش کردیں گے، مہلت دی جائے۔

کارساز، شاہراہ فیصل اور راشد منہاس پر قائم تمام شادی ہالز گرانے کا حکم


دوسری جانب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کنٹونمنٹ بورڈز میں کمرشل تعمیرات کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کارساز، شاہراہ فیصل، راشد منہاس پر قائم تمام شادی ہالز گرانے کا حکم دے دیا جبکہ گلوبل مارکیٹ سمیت کنٹونمنٹ ایریاز میں تمام سنیماز، کمرشل پلازے اور مارکیٹس گرانے کا بھی حکم دے دیا۔

جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں تو ڈی ایچ اے نے اتنی عمارتیں بنا ڈالیں بھارت تک جا پہنچے ہیں, کیا ان کا کام یہی رہ گیا ہے، ڈی ایچ اے والے سمندر کو بھی بیچ رہے ہیں, ان کا بس چلے تو یہ سڑکوں پر بھی شادی ہالز بنا ڈالیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل، تمام کنٹونمنٹ بورڈز کے چیف ایگزیکٹوز اور منتخب چئیرمینز کو طلب کر لیا اور اے ایس ایف، کے پی ٹی، پی آئی اے، سول ایوی ایشن, سمیت تمام اداروں کے سربراہان کو بھی طلب کرتے ہوئے تمام اداروں کے سربراہان سے 2 ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں