The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا دوہری شہریت والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کاحکم

غیرملکی شہریت والےسرکاری ملازمین ریاست پاکستان کےمفاد کیلئے خطرہ ہیں

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے دوران ملازمت غیرملکی شہریت لینے والے ملازمین کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا غیرملکی شہریت والے سرکاری ملازمین ریاست پاکستان کے مفاد کے لئے خطرہ ہیں، ایسے ملازمین کا نام منفی فہرست میں ڈالیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے دہری شہریت سےمتعلق کیس کا فیصلہ سنادیا، فیصلے میں سپریم کورٹ نے دوہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کاحکم دے دیا۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ دوران ملازمت غیرملکی شہریت لینا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی بدنیتی ظاہرکرتا ہے، متعلقہ حکومتیں ایسے غیر ملکی شہریت لینے والوں کو شہریت چھوڑنے کی مہلت دیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔

غیرپاکستانیوں کوعہدے دینے پرمکمل پابندی سے متعلق پارلیمنٹ پالیسی وضع کرے

چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا غیرملکی شہریت والے سرکاری ملازمین ریاست پاکستان کے مفادکے لئے خطرہ ہیں، غیر پاکستانیوں کو پاکستان میں عہدے دینے پر مکمل پابندی ہونی چاہیئے، غیرپاکستانیوں کو عہدے دینے پر مکمل پابندی کے بارے پارلیمنٹ پالیسی وضع کرے جبکہ ضروری حالات میں کسی غیرپاکستانی کو عہدہ دینے سے قبل متعلقہ کابینہ سے منظوری لی جائے۔

فیصلے کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں دوہری شہریت والے ملازمین کی فہرستیں مرتب کر کے ان کے نام منفی فہرست میں ڈالیں اور پارلیمنٹ دوہری شہریت والے ملازمین کیخلاف کارروائی کیلئے جلد قانون سازی اور دیگر اقدامات کرے۔

مزید پڑھیں : چیف جسٹس کا سرکاری افسران اور ججز کی دوہری شہریت پر از خود نوٹس

یاد رہے 24 ستمبر 2018 سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ،  چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ دہری شہریت والوں کا سب کچھ باہر ہوتا ہے، ملازمت سے نکالنے پر سروس ٹربیونل میں چلے جاتے ہیں، ایسے لوگ پاکستان کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔

واضح رہے رواں سال جنوری میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سرکاری افسران اور ججز کی دوہری شہریت کا از خود نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سے 15 دن میں رپورٹ طلب کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں