The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا ریلوے میں 76 ہزار ملازمین کی چھانٹی کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ریلوے میں 76 ہزار ملازمین کی چھانٹی کا حکم دےدیا، چیف جسٹس گلزار نے کہا کہ ریلوے میں نااہل افراد بھرے پڑے ہیں، جو خود اپنے محکمے سے وفادار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اورجسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بینچ نے ریلوے بدانتظامی کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے کہ ریلوےبدترین حال میں پہنچ چکی ہے، ہرہفتے ایک حادثہ ہوجاتا ہے، حادثات سےبڑاجانی اورمالی نقصان ہوتاہے۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونیوالےحادثے میں بھی کروڑوں کانقصان ہوا، 6ماہ پہلےوالےحادثےکی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی، ریلوے مسلسل خسارے میں جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریلوےسیکریٹری کےبیان پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے ریلوےمیں مکمل اوورہالنگ اور ریلوے میں76ہزارملازمین کی چھانٹیوں کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا سیکرٹری ریلوے کا بیان سنا، جس سے بالکل مطمئن نہیں، ریلوے میں نااہل افراد بھرے پڑے ہیں، ملازمین خود اپنے محکمے کے ساتھ وفادار نہیں۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا ریلوے آئے روز حادثات کا شکار ہوتی ہے، حادثات کے باعث بھاری جانی ومالی نقصان ہوتا ہے، ان حادثات کی کوئی رپورٹ ہے اور نہ کوئی عملدرآمد، ریلوے فوری طور پر اپنا اصلاحاتی عمل شروع کرے اور ریلوے سے غیر ضروری اور نااہل ملازمین کی چھانٹی کریں۔

سیکرٹری ریلوے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلیا اور سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں