The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ مخالف تقریر، طلال چوہدری کی معافی مسترد، تحریری فیصلہ جاری

نوازشریف سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے ججز اور عدلیہ پر حملے کیے گئے، فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کی توہین عدالت انٹرا کورٹ اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں عدالت نے ملزم کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا جس کو جسٹس سجاد علی شاہ نے تحریر کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طلال چوہدری نےعدلیہ کے خلاف توہین آمیز تقریر پاناما کیس فیصلےکےبعدکی جس میں سپریم کورٹ نے پاناما فیصلے میں نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کیس: طلال چوہدری کا معافی نامہ مسترد

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد لیگی رہنماؤں نے چیف جسٹس، ججز کی تضحیک کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد نوازشریف سے وفاداری ثابت کرنا تھا۔

فیصلے میں لیگی رہنما کو قصور وار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طلال چوہدری نےشعلہ بیان مقررکے انداز میں عدلیہ کی ساکھ پرحملہ کیا اور اس کے ذریعے عوام کے عدالتی نظام پر قائم اعتماد کو توڑنے کی کوشش کی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طلال چوہدری کے توہین عدالت الفاظ انتہائی سنگین تھے جس پر انہوں نے مخلصانہ معافی اور ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا، انٹرا کورٹ اپیل توہین عدالت کو جرم ختم کرنے کےلیے معافی کافی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں بتایا ہے کہ عدالت نے طلال چوہدری کی معافی مسترد کردی کیونکہ یہ عدالتی پیرامیٹرز پر پورا نہیں اترتی، اسی باعث انٹرا کورٹ اپیل بھی خارج کی جاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں