The news is by your side.

Advertisement

اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس پر فیصلہ محفوظ، آج شام ساڑھے 7 بجے سنایا جائے گا

اسلام آباد : اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس پر فیصلہ آج شام ساڑھے 7 بجے سنایا جائے گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے اسپیکر کی رولنگ غلط ہے، اب یہ بتائیں اگلا قدم کیاہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسپیکرکی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کےریمارکس پرنجی ہوٹل میں اجلاس کیاگیا، نجی ہوٹل میں حمزہ شہبازکووزیراعلیٰ منتخب کیاگیا، آج باغ جناح میں ایک اورتقریب کی جارہی ہے، اس تقریب میں حلف برداری ہوگی۔

چیف جسٹس کا پنجاب کا معاملہ دیکھنے سے انکار

جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم پنجاب کےمعاملےکونہیں دیکھ رہے، بہترہےآپ یہ معاملہ لاہورہائیکورٹ لیکرجائیں  ایڈووکیٹ جنرل نے کہا اس کے بعد حمزہ شہبازسرکاری افسران کی میٹنگ طلب کر رہے ہیں تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نےجوکہناہےوہ تحریری طور کہیں۔

احمد اویس نے عدالت کو بتایا کہ آج باغ جناح میں حلف برداری تقریب رکھی گئی ہے، حمزہ شہباز سابق گورنر چوہدری سرور سے حلف لینے جا رہے ہیں، انہوں نے سرکاری مشینری کا اجلاس بھی بلا لیا ہے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہم نےاس معاملے پر فیصلہ کرنے سے انکارکر دیا ، ہم نے قومی اسمبلی کے معاملے کو دیکھنا ہے۔

جسٹس مظہرعالم کا کہنا تھا کہ ٹی وی پریہ بھی دکھایا گیا پنجاب اسمبلی کو تالا لگا دیا گیا، پنجاب میں آپ کیا کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے بھی کہا لاہور ہائی کورٹ موجود ہے وہاں جائیں، قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا ایم پی ایزعوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں؟ جس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ کیا وزیراعظم پوری قوم کےنمائندےنہیں ہیں؟

صدر مملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر کے دلائل

صدر مملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے جواب دیا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندےہیں، جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ میں آئینی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ حاصل ہوگا؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے بھی استفسار کیا پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثرہو تو داد رسی کیسے ہوگی؟ کیا داد رسی نہ ہو توعدالت خاموش بیٹھی رہے؟ جس پر بیرسٹرعلی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہوسکتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دی جاتی تو معلوم ہوتاوزیراعظم کون ہے، اگرزیادتی کسی ایک ممبرکے بجائے پورےایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟ جس پر علی ظفر نے سوال کیا اگرججزکاآپس میں اختلاف ہو توکیاپارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ پارلیمنٹ عدلیہ میں مداخلت نہیں کرسکتی،عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔

جسٹس عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیاوفاقی حکومت کی تشکیل کاعمل پارلیمان کااندرونی معاملہ ہے؟ صدر مملکت کے وکیل نے بتایا کہ
وفاقی حکومت کی تشکیل،اسمبلی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے تاہم وزیراعظم کےالیکشن،عدم اعتماد دونوں کاجائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

چیف جسٹس نے بیرسٹرعلی ظفر سے مکالمے میں کہا کہ علی ظفر صاحب آپ نے جس فیصلے کا حوالہ دیا وہ حلف سے متعلق ہے، یہاں معاملہ حلف لینے کا نہیں رولنگ کا ہے، کہیں تو لائن کھینچنا پڑے گی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان کا استحقاق ہے کہ قانون سازی کرے، اگرپارلیمان قانون سازی نہ کرے تو کیا ہوگا؟  جس پر وکیل صدر مملکت نے بتایا کہ قانون سازی نہ ہوتو پرانے قوانین ہی برقرار رہیں گے، جمہوریت اور الیکشن کو الگ نہیں کیا جا سکتا، ووٹرز سب سے زیادہ با اختیار ہیں۔

بیرسٹرعلی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت ماضی میں قراردے چکی سیاسی مسائل میں داد رسی کا فورم عوام ہے، جونیجو حکومت کا خاتمہ عدالت نےخلاف آئین قراردیاتھا، کیس میں عدالت نے کہا معاملہ الیکشن میں جارہا ہے عوام فیصلہ کریں گے۔

جسٹس مظہرعالم نے ریمارکس میں کہا ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی، اس ایشو کو ایڈریس کریں، جس پر وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کا اعلان کردیا گیا۔

اسپیکرکی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایشو یہ ہے آرٹیکل 58 صدر وزیر اعظم کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کرتا ہے، جس وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد آئی وہ اسمبلی تحلیل کی سفارش نہیں کرسکتا، ہم نے اسمبلی کی تحلیل میں اس معاملے کو دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے استفسار کیا کہ آپ کیوں نہیں بتاتے کہ کیا آئینی بحران ہے؟ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا ہے تو آئینی بحران کہاں ہے؟ ملک میں کہیں اور بحران ہو سکتا ہے، میری بھی یہی گزارش ہے کہ ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں۔

جسٹس عمرعطابندیال نے مزید کہا کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی، کسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے تو حکومت الیکشن اناؤنس کرے ، الیکشن کرانے پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ہر بار الیکشن سے قوم کا اربوں کانقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے پی ٹی آئی قومی اسمبلی ایوان میں سب سےبڑی جماعت ہے، کیا یہ بہتر ہے دیگر چھوٹی جماعتیں غیر فطری اتحاد سے حکومت قائم کریں؟ تحریک انصاف کے مقابل کیا یہ ملک کے لئے بہتر ہوگا؟ جس پر وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ میری رائے میں اس معاملے پر عدالت کو توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل

صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ عدالت ماضی میں اسمبلی کارروائی میں مداخلت سےاجتناب کرتی رہی ہے، چوہدری فضل الہٰی کیس میں اراکین کو ووٹ دینے سے روکا،تشدد کیا گیا، عدالت نےاس صورتحال میں بھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کی۔

امتیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ایوان کی کاروائی عدلیہ کے اختیار سے باہر ہے، عدالت پارلیمان اپنا گند خود صاف کرنے کا کہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہا گیا عدم اعتماد پر لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آ سکتی، درخواست گزار کہتے ہیں 28 مارچ کو تحریک پیش ہونے سے پہلے رولنگ آ سکتی تھی۔

جسٹس عطال بندیال نے امتیاز صدیقی سے مکالمے میں استفسار کیا اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے؟ جس پر وکیل وزیراعظم نے کہا اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کی صدارت پراعتراض نہیں کیا تھا، ڈپٹی اسپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا، پارلیمان میں ڈپٹی اسپیکر نے جو فیصلہ دیا اس پروہ عدالت کوجوابدہ نہیں، تحریک عدم اعتماد خالصتاً پارلیمان کی کارروائی ہے، مداخلت نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرےگی، عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے۔

وکیل امتیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو اگر معلوم ہو بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے، تو اسپیکر قانون سے ہٹ کر بھی ملک کو بچائے گا، اسپیکر نے اپنے حلف کے مطابق بہتر فیصلہ کیا، اسپیکر کا فیصلہ پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔

وزیراعظم کے وکیل نے مزید دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 69 کو127 سے ملا کر پڑھیں تو پارلیمانی کارروئی کو تحفظ حاصل ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا سپریم کورٹ ان پرعمل کرنے کی پابند نہیں، عدالت فیصلوں میں دی گئی آبزرویشنز کی پابند نہیں تو امتیاز صدیقی نے کہا ڈپٹی اسپیکر نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پر انحصار کیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسپیکر کے سامنے کیا مواد موجود تھا جس پر انہوں نے تحریک کو ختم کیا؟ وکیل وزیراعظم نے بتایا کہ اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے۔

جسٹس عطا بندیال نے مزید استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو کب بریفنگ ملی تھی؟ تو وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی ڈپٹی اسپیکر کو بریفنگ کا علم نہیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو معلوم نہیں تو اس پر بات نہ کریں۔

امتیاز صدیقی نے بتایا کہ وزیراعظم کو تحریک خارج ہونے کا علم ہوا تو اسمبلی تحلیل کر دی ، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد 28 مارچ کو کیوں مسترد نہیں کی؟

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی توایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ختم کرسکتا تھا، وزیراعظم نے صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی، اسمبلی نہ توڑی جاتی تو ارکان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ریورس کرسکتے تھے، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر عدالتی جائزے سے بلاتر ہیں کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل

وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہونے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کیا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ صدر مملکت کےوکیل علی ظفر کے دلائل اختیار کرتا ہوں، عدالت کے سامنے مختصر گزارشات پیش کروں گا، سوال ہوا تھا پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتمادمیں نہیں لیاجاسکتا، پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پرلیا جاسکتا ہے، کیا پوائنٹ آف آرڈر موو کرنیوالے کے پاس کوئی ریمیڈی نہیں ہے؟

جسٹس مظہر عالم نے پوچھا ڈپٹی اسپیکر کے پاس رولنگ کا مواد کیا تھا، جس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا مجھے گزارشات کو فریز کرنے دیں، عدالت کے سوالات کا جواب دوں گا تو جسٹس مظہر عالم کا کہنا تھا کہ ہم بھی آپ کو سننے کے لئے بے تاب ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا آپ کافی فریش لگ رہے ہیں۔

جسٹس جمال نے استفسار کیا کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کراناآئینی خلاف ورزی ہے؟ تو نعیم بخاری نے بتایا کہ اسپیکر پوائنٹ  آف آرڈر مسترد کرتا کیاعدالت تب بھی مداخلت کرتی؟ ماضی میں اسمبلی توڑی گئی تو غلط قرار دینے کے باوجود الیکشن  عمل نہیں رکا۔

جسٹس اعجاز نے پوچھا کیا پوائنٹ آف ارڈر پر تحریک عدم اعتماد ختم کرنےکی کوئی مثال ہے ؟ زیر التوا تحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہوسکتی ہے؟

جس پر وکیل ںعیم بخاری کا کہنا تھا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کرسکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے، مثال نہیں مگر پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر پہلے سے موجود قرارداد ختم کر سکتا ہے، نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا، اب معاملہ عوام کےپاس ہے، سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے۔

اسپیکرکی رولنگ سےمتعلق ازخود نوٹس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا رولنگ پر اسپیکر اسد قیصر کے دستخط ہیں تو اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے بتایا کہ جی وہ آج بھی اسپیکر قومی اسمبلی ہیں ، تحریک پیش کرنےکی منظوری کامطلب یہ نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی،عدالت بھی درخواستیں سماعت کیلئے منظورکر کے بعد میں خارج کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر کا تعلق اس روز کے اجلاس سے ہوتا ہے، رولز کے مطابق جب تحریک پیش ہو تواس کے بعد پوائنٹ آف آرڈر نہیں آسکتا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر قرار داد ہے یا تحریک ، موشن اور تحریک کے لفظ میں کیا فرق ہے؟ جس پر وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ موشن ،تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں، موش اور تحریک دونوں آپس میں رشتے دار ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کیا عدم اعتماد قرارداد ہوتی ہے یا تحریک ؟ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی سوال کیا کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد کا مطلب ووٹنگ کیلئے پیش ہونا نہیں؟ عدم اعتماد کےعلاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں نہیں، کیا اسمبلی رولز کا سہارا لیکر آئینی عمل کوروکا جا سکتا ہے؟ کیا اسپیکر آئینی عمل سے انحراف کر سکتا ہے؟ ۔

قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس عدالت میں پیش

دوران سماعت وکیل نعیم بخاری نے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس عدالت میں پیش کردیئے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ منٹس تو ہیں اس میں حاضری کی تفصیل کہاں ہے، کمیٹی کے اجلاس میں کون کون شریک رہا اور شرکا کو کس نے بریفنگ دی ؟

وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ شرکت کے لئے 29افراد کو نوٹس دیئے گئے ، ،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کیا وزیر خارجہ کمیٹی کے اجلاس بھی شامل تھے تو نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ شامل تھے یا نہیں میں معلوم کر کے بتاؤں گا۔

چیف جسٹس نے کہا کمیٹی اجلاس میں کل 11 کمیٹی ممبران شریک ہوئے ، نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کمیٹی کو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر نے بریفنگ دی تو جسٹس عطا بندیال نے مزید کہا یہ ظاہر ہو رہا ہے وزیر خارجہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

وکیل اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے بتایا کہ وزیر خارجہ اس میٹنگ کے وقت چین کے دورے پر تھے، جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا مشیر برائے قومی سلامتی کانام بھی نہیں ہے ، فارن منسٹر کو پیغام آیا انہیں وہاں ہونا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جی بالکل وزیرخارجہ کو اس میٹنگ میں ہونا چاہیے تھا، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفنگ دی گئی، کمیٹی کو بتایا گیا عدم اعتماد ناکام ہوئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا ریکارڈ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی میں 11 لوگ شریک ہوئے ، بریفنگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے ہدایت ہے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس سربمہر لفافے میں فراہم کروں ، وزیر اعظم نے لیٹر جلسے میں دکھایا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا وہ بند خط لہرایا گیا، جس پر وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جی میں نے کب کہا کہ پڑھ کر سنایا گیا۔

نعیم بخاری نے فواد چوہدری کا 3اپریل کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کردیا، چیف جسٹس نے سوال کیا کیا اپوزیشن کو پوائنٹ  آف آرڈر پر جواب کا موقع نہیں دیا جانا چاہیےتھا؟ سپیکر صاحب نے عجلت میں رولنگ دے دی۔

جسٹس عطابندیال کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی اجلاس میں 57 ارکان موجود تھے، اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے، رولنگ کےبجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لیناچاہیے تھا؟ جس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی۔

جسٹس جمال مندو خیل کا کہنا تھا کہ اس قرار داد پر اسپیکر کانام ہے دستخط نہیں ، ڈپٹی اسپیکر نے دی، دستخط اسپیکر کے ہیں، رولنگ پر ڈپٹی اسپیکر کے دستخط کہاں ہیں تو نعیم بخاری نے بتایا کہ اصل تحریر اردو میں ہے وہ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا ، پوچھ کر بتاؤں گا کہ اس پر اسپیکر نے دستخط کئے تھے یا نہیں۔

جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس میں کہا فواد چوہدری نے عدم اعتماد آرٹیکل 5 سے متصادم پر رولنگ مانگی، ممکن ہے اراکین کہتے یہ آئین کیخلاف ہے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، ہوسکتا ہے کچھ لوگ خط کے تناظر میں تحریک کیخلاف ووٹ دیتے، لیکن ووٹنگ کرانے کے بجائے تحریک ہی مسترد کر دی گئی۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اس انداز میں تحریک مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا، اسپیکر نے رولنگ کے بعد ووٹنگ کیوں نہیں کرائی؟ رولنگ میں عدم اعتماد مسترد کرنا شاید اسپیکر کا اختیار نہیں تھا، ڈپٹی اسپیکر کو آرٹیکل 5 کی قرار داد پر ووٹنگ کرانی چاہیے تھی۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا پارلیمنٹ میں جو ہوا اس کاجائزہ عدالت نہیں کرسکتی، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے کچھ ارکان رولنگ سے مطمئن ہوتے کچھ نہ ہوتے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آئین کا تقاضا ہے، ایسا لگتا ہے رولنگ لکھ کر ڈپٹی اسپیکر کو دی گئی انھوں نے پڑھ دی۔

نعیم بخاری نے کا کہنا تھا کہ یہ میرے علم میں نہیں ،میں پارلیمنٹ میں نہیں تھا ، جسٹس جمال نے استفسار کیا کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کیخلاف رولنگ پارلیمانی کارروائی سےباہرنہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ پارلیمان کے اندر جوبھی ہواسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا۔

جسٹس اعجاز نے سوال کیا کہ کیاڈپٹی اسپیکر رولنگ میں نکات پارلیمانی کارروائی سےباہرنہیں تھے؟ نعیم بخاری نے بتایا کہحتمی فیصلہ عدالت کاہوگا،ہمارا مؤقف ہے رولنگ کاجائزہ نہیں لیاجاسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو رولنگ ڈپٹی اسپیکرنے دی وہ پوائٹ آف آرڈر پرتھی ، کیا اس کے خلاف اسپیکر کےسامنے اپیل ہوسکتی تھی؟ اسمبلی ٹوٹنے سے آسمان گر پڑا ہے ، آپ کیسے کہہ رہے ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کو اسپیکر کے سامنے چیلنج کیا جا سکتا ہے، آپ کے مطابق اراکین کو ڈپٹی اسپیکر کیخلاف اسپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کردی گئی، ووٹنگ کرا دیتے تو شاید تحریک مسترد  ہو جاتی ، جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو متاثرہ ارکان کے پاس دادرسی کوطریقہ کا کیا تھا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ارکان نئی عدم اعتماد لا سکتے تھے، وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ اسپیکر نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی توثیق کی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا رولزکے مطابق پوائنٹ آف آرڈرپردوسری سائیڈکوبات کاموقع دیاجاسکتاہے، آپشن کے باوجود سننے کا موقع نہیں دیا گیا، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت اسمبلی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے۔

جسٹس اعجاز نے استفسار کیا رولنگ پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر کیسے جائزہ لیا جاسکتا ؟ جسٹس جمال نے نعیم ؓبخاری سے مکالمے  میں کہا بطور سینئر وکیل بتائیں کیا آرٹیکل 95 کیلئے کسی رول کی ضرورت ہے؟ آرٹیکل 95 مکمل ضابطہ ہے کیا خلاف ورزی کا عدالتی  جائزہ نہیں لیاجا سکتا ؟ تو وکیل نے بتایا کہ کس حد تک پارلیمانی کارروائی میں مداخلت ہوسکتی ہے فیصلہ عدالت کرے گی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید کے دلائل

نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد لیو گرانٹ  ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے سوال کیا لیوکون گرانٹ کرتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہاؤس لیو گرانٹ کرتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے خالد جاوید سے مکالمے میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا یہ آپ کا آخری کیس ہے، تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے تو جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا پوری بات توسن لیں،ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا پارلیمانی کارروائی کو عدالتی جائزے سے استثنیٰ حاصل ہے ، کیس کا فیصلہ تفصیل میں جائے بغیر دیا جا سکتا ہے کہ کون وفا دار ہے کون نہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکتا، عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔

خالد جاوید کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفنگ دی گئی، قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمرہ سماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں ، صدر مملکت کوئی وجہ یا حالات جانے بغیر اسمبلی تحلیل کا اختیار رکھتےہیں۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں مزید کہا کہ وزیراعظم سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں ، اس لئے اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے، اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کو وجوہات بتاناضروری نہیں، صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی  ازخود تحلیل ہو جائیں گی۔

خالد جاوید نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا، ووٹ ڈالنے کا حق آئین اوراسمبلی رولز سے مشروط ہے، اسپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئےعدالت نہیں آسکتا، حکومت کی تشکیل ایوان میں کی جاتی ہے، آئین ارکان کی نہیں ایوان کی 5 سالہ معیاد کی بات کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کردیا گیا ،ہمارےآئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ رولزسےمشروط ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحریک عدم اعتمادسمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے۔

خالد جاوید کا کہنا تھا کہ پارلیمان کارروائی کو مکمل استثنیٰ حاصل ہونے کی دلیل کا حامی نہیں ایسا نہیں کہ ایوان کے اندر کبھی کچھ بھی دیکھا نہیں جا سکتا اور ایسا بھی نہیں کہ پارلیمان کے اندر مداخلت مسلسل کی جائے، اسپیکر کم ووٹ والے کے وزیراعظم بننے کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کرسکتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے اسپیکر ایوان کا نگران ہے، صرف اپنی ذاتی تسکین کیلئے نہیں بیٹھتا، اسپیکر ایسا تونہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے باقی ممبران کوگڈ بائے کہے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا تحریک پیش کرنےکی منظوری کیلئے  20 فیصد یعنی  68ارکان کاہونا ضروری نہیں، اگر68  ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں توکیا ہوگا؟ جس پر جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ 172ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں کورم پورا کرنے کیلئے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے، تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے، تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آ جائیں گے، تحریک پیش کرنے، ووٹنگ میں 3سے 7دن کا فرق بغیر وجہ نہیں، 7دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فواد چوہدری 28 مارچ کواعتراض کرتے تو کیا تحریک پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہوسکتی تھی ، تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی۔

جسٹس مظہر عالم نے سوال کیا کہ اسپیکر نے قرار دیا تحریک منظور ہوگئی آپ کیسے چیلنج کرسکتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہوگیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تحریک پیش کرنے کے حق میں 161 لوگوں نے ووٹ کیا تھا، 68 لوگ تحریک پیش کرنےکی منظوری، 100 مخالفت کریں تو کیا ہوگا؟ مجموعی رکنیت کی اکثریت ہو تو ہی تحریک پیش کرنے کی منظوری ہوسکتی ہے، آئین میں کہیں نہیں لکھا اکثریت مخالفت کرے تو تحریک مسترد ہوگی، تحریک پیش کرنے کی منظوری کا ذکر اسمبلی رولز میں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 55 کے مطابق فیصلے ہاؤس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہوں گے ، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کورم 86 کا ہے 68 کی قرارداد آئی ،اسے 44 لوگ مسترد کر سکتے تھے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ اگر 68 سپورٹ کر رہے ہیں تو لیو گرانٹ ہونی چاہیے، 172 اراکین کی ضرورت تو ووٹنگ کے دن ہو گی، لیو گرانٹ اسٹیج پر 172 ارکان کی ضرورت نہیں، آرٹیکل55 کے تحت ایوان کے فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہا لیوگرانٹ کے وقت 172ارکان چاہیے تو پھر بات اسوقت ہی ختم ہوگئی۔

چیف جسٹس پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انٹرل پروسیجرہے اس میں ہمیں نہیں جاناچاہیے، مسئلہ یہ ہے کہ بعد میں اسمبلی توڑ دی  گئی، اگر سمبلی نہ توڑی جاتی تو اراکین مسئلے کا حل نکال لیتے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اسمبلی قرارداد کی موجودگی میں تحلیل نہیں ہو سکتی۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا میں بھی اسی سے متعلق آپ سے پوچھ رہا ہوں، اگر اسمبلی تحلیل نہ کی جاتی تو اس کا حل نکالا جا سکتا تھا، تحریک منظور کرنےکی اسپیکرنےرولنگ دیدی توبات ختم ہوگئی، اسپیکر کے وکیل نے کہا رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا، 3اپریل کو بھی وہی اسپیکر تھا اور  اسی کی رولنگ تھی، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہےاس پرآپ کو سنناچاہتےہیں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانےکےبعدہی اسمبلی تحلیل ہوئی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اوراسپیکر رولنگ میں کتنےٹائم کافرق ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کامیاب ہو اور کام کرے، اٹارنی جنرل نے کہا سب سے بہتر بات یہ ہے کہ عوام کے پاس جایا جائے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس معاملےمیں عدالت نتائج کونہیں دیکھ رہی، ہم نے قانون کو دیکھنا ہے، ہم نے آئینی معاملات کو دیکھنے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کررہا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ کہتے ہیں انتخابات ہی  واحد حل ہے، کوئی اورحل کیوں نہیں تھا؟ تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی اپوزیشن لیڈر وزیراعظم نہیں بنتا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کئی ممالک میں بنتےہیں مگراپوزیشن لیڈر وزیراعظم بنےتوکام نہیں چلتا تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلےکے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس میں کہا عدالت کو یہ نہیں دیکھنا کہ اس کے اثرات کیاہونگے ، پھر تو نظام چل نہیں سکے گا تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بالکل درست ہے میں رولنگ کی حمایت نہیں کر رہا ، ماضی میں آپ نے ایک اسمبلی توڑی اور وہ48 گھنٹے میں دوبارہ ٹوٹ گئی۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا اس لئے سب کو الیکشن میں جانا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا، عدالت نے آئین کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا میرا کنسرن نئے انتخابات کا ہے تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کو بھی ہم  نے دیکھنا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے مزید کہا اگر یہ اسمبلی بحال ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے نہ چلے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا ایک بات تو واضع نظر آ رہی ہے محترم کی رولنگ غلط ہے، ایک بات تو نظر آگئی رولنگ غلط ہے اب یہ بتائیں اگلا قدم کیاہوگا، اب آگے کیا ہونا ہے یہ دیکھنے والی بات ہے، آج اس کیس کو ختم کرینگے انشاءاللہ۔

وقفے کے بعد سماعت شروع

اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخودنوٹس پر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دلائل کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے کہا عدالت نےبرطرف ملازمین کی نظرثانی مستردکرکےبحالی کاراستہ نکالا عدالت برطرف ملازمین کیس کی طرزپرراستہ بنائے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ موقف ہے جوڈیشل اسٹیٹس مین شپ کاایک حالیہ فیصلے میں تذکرہ ہوا ، آج کی اسمبلی کا مینڈیٹ اپوزیشن کا نہیں بنتا، ایسا فیصلہ دیں کہ جوڈیشل ایکٹیو ازم کےبجائےاسٹیٹس مین شپ نظرآئے، جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا آج ڈالر 190 کو ٹچ کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا عوام نے اپوزیشن کو مینڈیٹ نہیں دیا ، ایسا فیصلہ دین کہ جمہوریت کو استحکام حاصل ہو، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بطور شہری کہہ رہاہوں ہمیں مضبوط حکومت چاہیے ناکہ کمزور۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں حاجی سیف اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا عوام کے پاس جانا ہی بہتر حل ہے ، تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں بجلی اور دیگر سہولیات کیلئے بھی پیسہ نہیں بچا۔

شہبازشریف روسٹرم پر آگئے

سپریم کورٹ نے شہبازشریف کو روسٹرم پر بلالیا ، شہباز شریف نے عدالت میں کہا عام آدمی ہوں قانون کی بات نہیں کروں گا، میں کچھ گزارش کروں زیادہ بات مخدوم علی کرینگے، عدالت کا شکریہ کہ مجھے بات کا موقع دے رہی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ استدعا ہےرولنگ غلط تھی تو اللہ اور پارلیمنٹ کواگلےفیصلےکرنےدیں، ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، جو بلنڈر ہوئےان کی توثیق اور سزا نہ دیئےجانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، عدالت اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کرے اور پارلیمنٹ کا عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے۔

ن لیگی صدر نے کہا کہ دانستہ غلطیوں کو نظر انداز کیا گیا تومستقبل میں بھی یہ عمل دہرایا جائے گا، عدم اعتماد فیلڈ میں ہے تو ممبران کو ووٹ کا حق استعمال دیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا ثریتی پارٹی کو جمہوریت میں فوقیت ہوتی ہے، ہم 184 کے تحت مقدمہ سن رہے ہیں۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم نے قانون اور آئین کو دیکھنا ہے، بنیادی حقوق کےتحفظ کیلئےآرٹیکل184تھری کااختیاراستعمال کررہے ہیں ، 2013کے الیکشن میں آپ کی کتنی نشستیں تھیں؟اس آرٹیکل کےتحت عوام کامفاد مدنظر رکھا جاتا ہے ،ہم انسان ہیں اور حقائق بھی دیکھتے ہیں۔

چیف جسٹس نے شہباز شریف سے مکالمے میں کہا کہ عدالت آپ کے وکیل مخدوم علی خان کوسن لیتی ہے، رولنگ کوختم کرکے دیکھیں گے آگے کیسے چلنا ہے ، سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ اگر عدم اعتمادکامیاب ہو جاتی ہے تو الیکشن میں کتناوقت لگے گا ،عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا کتنادورانیہ رہے گا؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہم عوام کے مفاد میں اصلاحات کر کے شفاف الیکشن کرائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا مخدوم علی خان سے پہلے دو باتیں کرنا چاہتا ہوں، جن لوگوں نے موجودہ حکومت کو پلٹا ہے کیا وہ ان کو بخشے گی۔

ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل

ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب کا آغاز کرتے ہوئے کہا اٹارنی جنرل کا آخری بیان دھمکی آمیز ہے کہ کون کس کے ساتھ کیا کرےگا، کس کو سر پرائز دیا ،کون کس کونہیں بخشے گا یہ فضول باتیں ہیں، میں آئینی بات کروں گا اسوقت تک بھی کولیشن گورنمنٹ تھی۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا نئے الیکشن کا مطالبہ تھا مگراب برعکس بات کر رہے ہیں، پہلے آپ قبل از وقت انتخاب چاہتے تھے اب اس پرقائم نہیں رہے، جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اب بھی ریفارمز کے بعد الیکشن چاہتی ہے، وزیراعظم نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ سرپرائز پر اپنا فیصلہ واضح کر چکےہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا عدالت سیاسی تقاریر پر نہ جائے۔

جسٹس عطا بندیال نے سوال کیا آپ کےارکان کی تفصیل کیا ہے ، مخدوم علی نے بتایا کہ ٹوٹل177ہے اور2002سےابتک کولیشن حکومت ہی چل رہی ہے، معاشی حالات خراب ہیں اسٹاک مارکیٹ کریش ،ڈالر اوپر جارہا ہے ، سوال یہ ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں، ن لیگی وکیل نے کہا حاجی سیف اللہ کیس عدالت کے سامنے ہے، کیس میں کسی ایک رکن نےبھی اسمبلی تحلیلی کوچیلنج نہیں کیاتھا، حاجی سیف اللہ کیس میں اسمبلی 1988 میں توڑی گئی۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ 3ماہ بعد کوئی رکن اسمبلی عدالات میں نہیں گیا ، فیصلہ اکتوبر میں آیا تب تک الیکشن شیڈول ہوچکا تھا ، اسمبلی کا ٹوٹنا ضیاالحق کے جہاز کے کریش کے بعد چیلنج ہوا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا بے نظیر بھٹو کیس کا فیصلہ کب ہوا؟ مخدوم صاحب اس نکتے کی بھی اتنی تیاری کر کے آگئے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا مجھے اندازہ تھا حکومت بلآخر انتخابات کی طرف جائےگی،جانتا تھا کہ اسپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں، جی سر مجھے اندازہ تھا کہ یہ نکتہ آئے گا۔

چیف جسٹس نے ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کی تعریف کی ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہا حاجی سیف اللہ کیس امتیازی کیس ہے، یہ نہیں ہو سکتا رولنگ ختم ہو اسمبلی بحال نہ ہو، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اس نقطہ پر لگتا ہے تیاری کرکے آئے ہیں۔

ن لیگ کے وکیل کا کہنا تھا کہ سب نتیجے پر پہنچنے کے بعد رولنگ غلط ہے ، عدالت کو اس کے اثرات پر فیصلہ نہیں دینا چاہئے ، عدالتی فیصلے کے بعد کیا ہوتا ہے وہ سیاست ہے ، عدالت قومی اسمبلی کو بحال کرے۔

مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ وزیراعظم،صدر،اسپیکرکوآرٹیکل58کوغلط استعمال نہ کرنےدیاجائے، کیس میں اسپیکر نےآرٹیکل 95کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، ان کو جانے دیاتو مستقبل میں بھی ایسے حالات دوبارہ سامنے آئیں گے، آئین اور اسکے ایکشن کومعزز عدالت کےججز نے دیکھنا ہے۔

وکیل ن لیگ کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اجازت دی گئی تو 3اسمبلیاں موجود ہیں ،ایک اسمبلی کایہ انتخاب کرا دیں گے جو فیئرہونا مشکل ہیں، صدر نے اسپیکر کی ملی بھگت سے سمری منظور کی۔

جس پر چیف جسٹس نے وکیل ن لیگ سے مکالمے میں کہا کہ مخدوم صاحب ہم اس کیس کے میرٹ میں نہیں جا رہے، اپوزیشن کیخلاف سنگین الزامات ہیں،جانچ کرناعدالت کا کام نہیں ، آپ بہت سخت باتیں کر رہے ہیں ، سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، عدالت میرٹ پر جائےگی نہ ہی الزامات پرفیصلہ دے گی۔

ہم غداری کے الزام کیساتھ الیکشن کیسے لڑیں گے؟ شہباز شریف

شہباز شریف سوال کیا کیا ہم غداری کے الزام کیساتھ الیکشن کیسے لڑیں گے؟ ہم اس الزام کیساتھ گھر والوں کا سامنا نہیں کر سکتے،جس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ غداری کا الزام جنہوں نے لگایا ہے وہ ثابت کریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ رولنگ ختم ہوگئی تو الزام کیسے برقرار رہے گا؟ رولنگ ختم ہونے سے الزام ختم ہوجائے گا۔

چیف جسٹس نے شہباز شریف سے مکالمے میں کہا ممکن ہےآپکا دل بڑا ہے مگروہ ہاتھ بھی ملانے کوبھی تیار نہیں، جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی سازش ثابت کر دے تومیں سیاست چھوڑ دوں گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا عدالتی احاطےمیں سیاستدانوں کو بات کرنے پرپابندی لگادیں ، عدالت سےمتعلق بھی ناجائز باتیں کی جاتی ہیں جو افسوسناک ہے، وفاداری اور لادینیت سے ہمیں اب ہٹ جانا چاہیے، اگر ہم سچ بولیں تو یہ قوم کہاں سے کہا پہنچ جائے۔

جسٹس عطا بندیال نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے ، پتا نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے۔

سپریم کورٹ نے اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو شام ساڑھے7بجے سنایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں