The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب کوئی پیش رفت یا کامیابی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ راؤ انوارابھی تک گرفتارنہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ نقیب اللہ محسود قتل کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب کوئی پیش رفت یا کامیابی؟ جس پر آئی جی سندھ نے جواب دیا کہ نقیب اللہ محسود قتل میں ملوث ڈی ایس پی گرفتارہوگیا ہے لیکن راؤ انوارابھی تک گرفتارنہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نےآپ کوتمام سیکیورٹی اداروں کی مدد دی تھی، کیوں گرفتار نہیں ہوا آپ بہتر بتا سکتے ہیں، آپ نے تمام سیکیورٹی اداروں سے کیا معاونت لی۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ آئی بی کی رپورٹ جمع ہوچکی ہے جس کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ پولیس کی تفتیشی ٹیم سے رابطے میں ہیں۔

آئی بی نے مفرور ملزم راؤانوار کی فون کالز کا تکنیکی جائزہ لیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آئی بی کی رپورٹ میں تو کچھ بھی نہیں، انہوں نے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ کہاں ہے؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ اب تک نہیں آئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی اورایم آئی کی رپورٹ کیوں نہیں آئی وضاحت پیش کریں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ راؤ انوار دہری شہریت نہیں رکھتے، چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار بھی اقامہ رکھتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ راؤانوارکے بینک اکاؤنٹس منجمد ہوگئے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھتے ہیں مزید کیا احکامات دے سکتے ہیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کی سماعت ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو وزارت دفاع کے سینئرجوائنٹ سیکریٹری محمد یونس عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی کی رپورٹ کیوں نہیں دی گئی؟ ۔

جوائنٹ سیکریٹری دفاع نے جواب دیا کہ ایک ہفتہ دیا جائےتفصیلی رپورٹ دے دیں گے، عدالت عظمیٰ نے آئی ایس آئی،ایم آئی ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں، ایف آئی اے کل تک رپورٹ جمع کرائے اور ایف سی بھی 10 دن میں تحریری رپورٹ دے۔

دوسری جانب نقیب اللہ محسود کے وکیل نے کہا کہ راؤانوارکی سی سی ٹی فوٹیج طلب کی جائے، ایسی اطلاعات ہیں راؤ انوار کو کوئی سہولت فراہم کررہا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اے ڈی خواجہ صاحب فوٹیج لیں، ہم تحقیقات کواپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہتے، ہم فوٹیج کے لیے حکم نہیں دیں گے۔


نقیب اللہ قتل کیس میں اہم پیشرفت، راؤ انوار کا قریبی ساتھی گرفتار


یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 19 فروری کو نقیب اللہ قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی تھی، پولیس نے راؤ انوار کے قریبی ساتھی سابق ڈی ایس پی قمر احمد کو گرفتار کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں