The news is by your side.

Advertisement

دانیال عزیزکے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ وفاقی وزیر دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز اور گواہ ڈی جی مانیٹرنگ پیمرا حاجی آدم ، ساجد حسین موجود تھے۔

ڈی جی پیمرا مانیٹرنگ حاجی آدم خان کا بیان قلمبند

ڈی جی مانیٹرنگ پیمرا حاجی آدم نے کہا کہ عدالت میں سچ کہوں گا کوئی غلط بیانی نہیں کروں گا، میرا کام پروگرامز کو مانیٹرکرنا ہے، دانیال عزیزکی پوری تقریردیکھی۔

گواہ حاجی آدم نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پی آئی ڈی کی 8 ستمبر2017 کی تقریرمکمل دیکھی اورسنی، میں 8 ستمبرکی تقریرکا متن بھی ساتھ لایا ہوں۔

سپریم کورٹ میں 15 دسمبر2017 کی دانیال عزیزکی ویڈیو کلپ چلائی جائے، جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ یہ نہ ہوکسی اورجرم میں فرد جرم عائد کرنی پڑجائے۔

عدالت عظمیٰ میں دانیال عزیزکا احاطہ عدالت میں میڈیا ٹاک کا کلپ چلایا گیا، گواہ حاجی آدم نے کہا کہ کلپ کی اپنے ریکارڈ سے تصدیق کرسکتا ہوں، جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کارٹون نیٹ ورک دیکھ لیا کریں۔

دانیال عزیز کے وکیل نے سوال کیا یہ ایک مخصوص ٹی وی پرچلنے والی کلپ ہے جس پر گواہ حاجی آدم نے جواب دیا کہ یہ کلپ مخصوص ٹی وی کے پروگرام میں چلایا گیا۔

وفاقی وزیربرائے نجکاری دانیال عزیز کے وکیل نے کہا کہ ایک اورکلپ بھی چلایا گیا تھا، ڈی جی پیمرا نے مبینہ توہین آمیزکلپ کی سی ڈی عدالت میں جمع کرا دی جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

دانیال عزیز کے وکیل علی رضا نے گواہ حاجی آدم سے سوال کیا کہ کلپ کا سورس ویریفائی کرسکتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ نہیں سورس ویریفائی نہیں کرسکتا۔

گواہ سے سوال کیا گیا کہ جوویڈیو کلپ چلا کیا وہ پہلے سے ایڈٹ ہوسکتا ہے جس پرگواہ حاجی آدم نے جواب دیا کہ جی کلپ پہلے ایڈٹ ہوسکتا ہے۔

دانیال عزیز کے وکیل نے کہا کہ پیمرارولز کے مطابق لائسنس ہولڈر کسی دوسرے کا کلپ نہیں چلا سکتے، کیا آپ نے مخصوص چینل کو کلب چلانے پرنوٹس جاری کیا۔

ڈی جی مانیٹرنگ پیمرا حاجی آدم نے جواب دیا کہ مخصوص چینل کودوسرے چینل کا کلپ چلانے پرنوٹس نہیں دیا، دانیال عزیز کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا21 دسمبر2017 کو یہ کلپ دوبارہ چلا؟۔ گواہ حاجی آدم نے جواب دیا کہ نہیں دوبارہ نہیں چلا۔

گواہ ساجد حسین

دانیال عزیز کے وکیل نے سوال کیا کہ یہ درست ہے دانیال عزیزسے منسوب الفاظ آپ کے اپنے الفاظ ہیں؟ جس پر ساجد حسین نے جواب دیا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں میں نے اخذ کیا ہے۔

گواہ نے کہا کہ سیاسی رپورٹنگ میرا کام نہیں، 23 سال سےا کانومی کورکررہا ہوں، یہ نجکاری کے وزیرتھے اس لیے میں نے پریس کانفرنس کو کورکیا۔

وفاقی وزیر کے وکیل نے سوال کیا کہ نجی اخبار کے ساتھ کب سے منسلک ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ساڑھے 3 سال سے نجی اخبار سے منسلک ہوں۔

انہوں نے سوال کیا کہ نگراں جج نے نیب ریفرنسز تیار کرائے یہ دانیال عزیز نے کہا؟ جس پر گواہ ساجد حسین نے جواب دیا کہ پریس کانفرنس میں دانیال عزیز کی اس بات میں اخذ کیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست کروں گا کہ وکیل صفائی کی شہادت ایک بارہی آ جائے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے وفاقی وزیردانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

توہین عدالت کیس: دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کردی گئی

خیال رہے کہ 13 مارچ کو توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی تھی۔

جسٹس مشیرعالم نے فرد جرم کی چارج شیٹ پڑھ کر سنائی تھی جس کے مطابق دانیال عزیز نے جج کی تضحیک اورعدالت کی توہین کی۔ انہوں نے آٹھ ستمبر کو کہا تھا کہ نگران جج نے نیب لاہور کو طلب کرکے تیار کیا۔

وفاقی وزیرنے کہا تھا کہ جہانگیر ترین کو سزا دے کر عمران خان کو بچایا گیا تھا یہ سب اسکرپٹ کے مطابق کیا گیا تھا جبکہ 31 دسمبر کو دانیال عزیز نے کہا تھا کہ جج کو بتانا ہوگا کیپٹل ایف زیڈای کی بات ان تک کیسے پہنچی، جے آئی ٹی کو ایف زیڈ ای سے متعلق تحقیقات کا کہا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں