The news is by your side.

Advertisement

گرلزاسکول کی زمین کا معاملہ طے، سپریم کورٹ کا تحریری معاہدہ جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے ایکشن پرگوجرانوالا میں گرلزاسکول کی زمین کا معاملہ طے پاگیا اور درخواست گزار نے متبادل جگہ کی پیشکش قبول کر لی،  عدالت نے پنجاب حکومت اوردرخواست گزار کا تحریری معاہدہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں گوجرانوالہ میں گرلز اسکول کی اراضی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں اسکول کی زمین کا مسئلہ حل نہ ہونے پر حکومت پنجاب پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے استفسار کیا مسئلہ حل کیوں نہیں ہوسکتا؟ کیاپنجاب حکومت ایک سکول کو زمین تک نہیں دےسکتی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا متبادل زمین پنجاب حکومت نے دینی ہے، اس مسئلے پرعدالت کیا حکم دے سکتی ہے؟ کالج کی زمین پر بننے والی کچی آبادی ہٹانے کا حکم دے سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حکومت نےبتانا ہے کونسی متبادل زمین موجود ہے، چیف سیکرٹری صاحب آپکا تمام عملہ نا اہل ہے، چیف اتنا سا مسئلہ حل نہیں کر سکتے ،صوبہ کیسے چلا رہے ہیں؟ صوبے کےسب سےبڑے بیوروکریٹ کا رویہ قابل افسوس ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پرآکر روزانہ بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں، تقریروں کےعلاوہ آپ کوئی مسئلہ بھی حل کرسکتےہیں، اے جی  پنجاب نے تحریری جواب میں نااہلی تسلیم کی ، کیا 13 سال ناکافی تھے مسئلہ حل کرنے کےلیے؟

جس پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا مجھے بات سمجھانے کی اجازت دی جائے توجسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا مسئلہ قانونی نہیں انتظامی ہے ،آپ خاموش رہیں، عدالت میں ایک بے معنی ساکاغذ جمع کرا دیاگیا ، حکومت کچھ نہیں کرے گی تو فیصلہ کرنا عدالت کی مجبوری ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا عدالت کو مزید لالی پاپ نہ دیں، لگتا ہے مسئلہ چیف سیکرٹری کے بس کا نہیں کوئی اور ہی آئے گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے درخواست گزارسے استفسار کیا کیامتبادل جگہ آپ کو قبول ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا وہ لوگ ملکیت نہیں دے رہے صرف جگہ دے رہے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا آپ نے ملکیت کو کیا کرنا ہے، وقف جگہ صرف تعلیم کےلیےتھی، سپریم کورٹ کےفیصلے کے  بعد حکومت بے دخل نہیں کر سکے گی، ہائی کورٹ نے بھی آپ کے خلاف فیصلہ دیا۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کیا آپ کو پنجاب حکومت کی متبادل جگہ کی پیشکش قبول ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا آپ میرٹ پر فیصلہ کر دیں  تو جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ہم نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تو آپ کیا کریں گے۔

سپریم کورٹ کے ایکشن پرگوجرانوالا میں گرلزاسکول کی زمین کا معاملہ طے پاگیا اور درخواست گزار نے متبادل جگہ کی پیشکش قبول کر لی، عدالت نے پنجاب حکومت اوردرخواست گزار کا تحریری معاہدہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

گذشتہ روز سماعت میں سپریم کورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مسئلہ حل کرنے کے لئے کل تک کی مہلت دی تھی، جسٹس گلزار نے کہا  تھا چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں کر سکتے تو عہدے پر کیوں ہیں؟ چیف سیکرٹری مسئلہ حل کریں ورنہ نتائج بھگتیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں