The news is by your side.

Advertisement

لاوارث گاؤں میں درختوں سے لٹکتی گڑیائیں، ماجرا کیا ہے؟

لندن: انگلینڈ کے دور دراز گاؤں میں واقع جنگل میں درختوں سے لٹکی گڑیائیں دریافت ہوئیں ہیں، جس کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسٹافورڈ شائر کے لاوارث گاؤں ” ہیڈنسفورڈ کینک چیس” کے جنگلات میں یہ بوسیدہ گڑیائیں پائی گئیں ہیں، انہیں سیر کے لئے اس جنگل میں جانے والی ایک خاتون نے دریافت کیا ہے، جو ایک اسپتال کی ملازمہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان گڑیاؤں کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ کیلوں کے زریعے درختوں پر ٹھونکا گیا ہے، وال شال اسپتال میں کام کرنے والی خاتون نے بتایا کہ یہ گڑیائیں ترتیب سے درختوں پر لٹکائی گئی ہیں اور وہ مسلسل گھورتی رہتی ہیں۔

خاتون نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جنگلات سے باہر آنے کے بعد انہوں نے ایک اشارہ بورڈ دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ پرانے پنشن اسپتال کا آپریشن تھیٹر ہوا کرتا تھا،میرے خیال میں یہ جنگ عظیم اول کی یادگار ہوسکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگ عظیم اؤل کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کے لیے بنائے گئے ایک اسپتال کے مقام پر درختوں پر لٹکی اور جگڑی ہوئی ان گڑیاؤں کے اعضا تقریباً سلامت ہیں اور یہ غیر متزلزل طور پر گھورتی ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایک روحانی علوم پر کام کرنے والی دوست سے ان گڑیوں سے متعلق بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں آیا وہ گڑیائیں کچھ محسوس بھی کرسکتی ہیں یا نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ان گڑیاؤں سے بات چیت بھی کی اور ان بچوں کی روحوں کے لیے دعا کی جو انہیں چھوڑ کر دار فانی کی طرف کوچ کر گئی تھیں، کینک چیس پہلی جنگ عظیم کے دوران برنڈلی ہیتھ اسپتال کا مرکز تھا جہاں پر بیک وقت ایک ہزار کے قریب جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کاعلاج کیا جاتا تھا۔

1953 میں برانڈلی گاؤں کے لوگ ہجرت کرکے شہروں کو چلے گئے جس کے بعد اس علاقے کے جنگلات کو قدرتی خوبصورتی کا ایریا قرار دے دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں