The news is by your side.

Advertisement

برطانوی اسکولوں میں‌ ہم جنس پرستی کی تعلیم دینے پر مسلم والدین کا احتجاج

لندن : برطانوی والدین نے پرائمری اسکول میں ہم جنسی پرستی سے متعلق تعلیم دینے پر ہفتہ وار مظاہروں کا آغاز کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ایک اسکول میں مسلمان بچوں کو مذہبی قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود ہم جنس پرستی کی تعلیم دی جارہی ہے جس کے خلاف والدین نے اسکول انتظامیہ کے خلاف ہفتہ وار احتجاج شروع کا آغاز کردیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برمنگھم میں پارک فلیڈ کمیونٹی اسکول میں ایک فیصد غیر مسلم بچے زیر تعلیم ہیں اس کے باوجود اسکول میں ’نو آؤٹ سائڈر‘ نامی پروگرام کے تحت بچوں اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو کہانیوں پر مبنی کتابوں کے ذریعے ہم جنس پرستی کی تعلیم دی جارہی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اسکول انتظامیہ کی جانب سے ہفتہ وار احتجاج کرنے والے والدین پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ سلسلہ وار مظاہرے منعقد کرنے سے گریز کریں۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ پروگرام کے سربراہ اینڈریو موفت ہیں جنہیں ورکی گلوبل ٹیچر پرائز کی جانب سے بہترین ٹیچر ایوارڈز کےلیے منتخب کیے گئے پہلے دس اساتذہ میں شامل کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کہنا ہے کہ اینڈریو موفت جو خود ایک ہم جنس پرست ہیں، جس کے باعث انہیں والدین کے شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، والدین کا کہنا ہےکہ مذکورہ نظریات اینڈریو ذاتی نظریات ہیں۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ والدین نے احتجاج کے دوران اینڈریو موفت کے خلاف شدید نعرے بازی کیا اور اسکول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اینڈریو موفت کو اسکول سے بے دخل کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں