site
stats
پاکستان

اسکول ٹیچرماریہ صداقت کو جلایا نہیں گیا بلکہ انہوں نے خودکشی کی، پولیس رپورٹ

مری: پولیس رپورٹ کے گزشتہ ماہ مری میں آگ میں جھلس کر ہلاک ہونے والی اسکول ٹیچر ماریہ صداقت نے خودکشی کی تھی،انہیں زندہ نہیں جلایا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ مری کی یونین کونسل ڈیوال میں مبینہ طور پر زندہ جلائی جانے والی 19 سالہ لڑکی پمز اسپتال میں انتقال کرگئی تھی،اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ علاقہ کے بااث افراد کی جانب سے خاتون کے لیے رشتہ بھیجا گیا تھا جس سے انکار کرنے پران ملزمان نے اسکول ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔

اسلام آباد : مری میں جلائی جانے والی19سالہ لڑکی پمزاسپتال میں دم توڑ گئی

اس کیس کی پولیس تحقیقاتی رہورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے، پولیس کی مفصل رپورٹ کے مطابق 19 سالہ لڑکی کو تشدد کے بعد زندہ جلانے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں نہ ہی کوئی اس واقعہ کا عینی گواہ موجود ہے اس کے برعکس اس بات کے قوی کے شواہد ملے ہیں کہ اسکول ٹیچر ماریہ صداقت نے دوست کی بے وفائی پر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کی تھی۔

مری میں زندہ جلائی گئی اسکول ٹیچر کا مرکزی ملزم گرفتار

اس حوالے جب ماریہ صداقت کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے پر اہل خانہ نے اس معاملے پر کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔

واضح رہے اس واقعہ کے مرکزی ملزم ماسٹر شوکت اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جسے پولیس نے بے گناہ قرار دے دیا ہے، دیکھنا یہ ہے کیا واقعی یہ کیس کا حقیقی پس منظر ہے یا یہاں بھی پولیس اپنی روایتی جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصل ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top