سینیٹ میں ٹاپ رینکنگ ڈیموکریٹ اقلیتی رہنما چک شومر نے امیریکی وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکس لگانے پر تنقید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ہو جو ٹرمپ کے اس حالیہ ٹیرف سے بچ سکا ہو، یہاں تک کہ انٹارکٹکا کے قریب وہ غیر آباد جزائر بھی اس ٹیرف کی زد میں آئے جہاں صرف پینگوئنز رہتی ہیں اور جہاں انسان آخری مرتبہ شاید 10 سال قبل گئے تھے۔
تاہم امریکی صدر نے روس پر کوئی ٹیرف نہیں لگائی ہے جس کی وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکا نے پہلے ہی روس پر تجارتی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اس وجہ سے روس کے ساتھ خاطر خواہ تجارت ہی نہیں ہوتی۔
تاہم روس پر ٹیرف نہ لگانے پر امریکی سینیٹ میں ٹاپ رینکنگ ڈیموکریٹ اقلیتی رہنما چک شومر نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی ہے، انہوں نے کہا کہ ٹیرف منصوبہ بندی اتنی خراب ہے کہ پینگوئن پر ٹیکس لگایا جارہا ہے لیکن پیوٹن پر نہیں، اس اضافے کے لیے آپ کا شکریہ۔
امریکی سینیٹر چک شومر کا کہنا تھا کہ ٹیرف کا نفاذ ڈونلڈ ٹرمپ کے بحیثیت صدر احمقانہ فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے، مہنگائی کم کرنے کے وعدے کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات میں اضافہ کر دیا جس سے افراط زر بدترین سطح پر پہنچ جائے گی۔