The news is by your side.

Advertisement

چارلس تھیوڈور نے اپنے محل میں‌ مسجد کیوں تعمیر کروائی تھی؟

وسطی یورپ میں ترک ثقافت اور عثمانی دور کے اثرات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پر جرمنی اور آسٹرین سلطنت میں طرزِ‌ تعمیر اور گھروں میں سجاوٹ و بناوٹ پر ترک ثقافت کے رنگ غالب رہے ہیں، کیوں کہ عثمانی دور میں زیادہ تر فتوحات انہی علاقوں‌ میں‌ ہوئی تھیں۔

یورپ کے نواب اور امرا نے خاص طور پر جنگِ ویانا کے بعد مشرقی طرزِ تعمیر اور خاص طور پر ترک ثقافت اور سجاوٹ میں بہت زیادہ دل چسپی لی۔ وہ ترکوں کے اثاثے اور ان کی چھوڑی ہوئی اشیا جمع کرنے اور انھیں نوادرات کے طور پر محفوظ کرنے لگے تھے۔ یہ ایک رجحان اور شوق تھا جس کی جھلک یورپ کے مختلف شہروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

اٹھارھویں صدی میں‌ جرمنی متعدد ریاستوں میں‌ بٹا ہوا تھا۔ ان میں باویرا بہت مشہور ریاست ہے اور وہ چارلس تھیوڈور کا زمانہ تھا جو باذوق اور ثقافت و تمدّن میں‌ دل چسپی لینے کے لیے مشہور ہے۔ تھیوڈور نے ریاست میں مختلف عمارتیں تعمیر کروائی تھیں۔ انہی میں ایک محل بھی شامل تھا جس کے ساتھ ایک باغ اور خوب صورت مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی۔ اس محل کا نام schwetzingen ہے جس کے لیے تھیوڈور نے ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات کی خدمات حاصل کی تھیں۔ یہ مسجد عبادت گاہ کے طور پر استعمال نہیں کی گئی اور اسے صرف تھیوڈور کی مشرقی ثقافت اور طرزِ تعمیر‌ میں دل چسپی کا مظہر کہا جاتا ہے۔

یہ گلابی مسجد کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور طرزِ تعمیر کا ایک خوب صورت نقش ہے۔

اس مسجد کی دیواروں پر عربی اور جرمن زبانوں میں مختلف اقوال لکھے گئے تھے جو دنیا کی بے ثباتی کو بیان کرتے ہیں اور انسانیت کی خدمت اور فلاح و بہبود کے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ دو میناروں اور ایک کشادہ ہال کے ساتھ اس مسجد کے ستون اور خوب صورت طاقچے گہرے رنگوں سے مزیّن ہیں۔ مسجد کے اندر روایتی عبادت گاہ کی طرح منقش محرابیں اور ستون موجود ہیں جب کہ اندر سے کھڑے ہو کر اس کے بلند گنبد کا نظّارہ بہت خوب صورت معلوم ہوتا ہے اور سیر و سیّاحت کی غرض سے آنے یہاں آنے والوں‌ کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں