site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

سنہ 2017 میں ہونے والی اہم ترین ایجادات

زندگی کا ایک اور یادگار سال اپنے جلو میں بہت سی کامیابیاں اور ناکامیاں لیے اختتام پزیر ہونے کو ہے، اس برس سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں کئی سنگِ میل عبور کیے گئے ، سائنس فکشن ناولز اور موویز ہر برس کی طرح 2017میںبھی دھوم مچاتی رہیں اور انہی آئیڈیاز سے متاثر ہو کر سائنسدان ، انجینئرز اور محققین نئی ایجادات پر کام کرتے رہے ۔ بہت سو ں کو اپنی کاوشوں میں ناکامی کا سامنا کر کے منہ کی کھانی پڑی جن میں سام سنگ اور ایپل کے آئی فونز قابلِ ذکرہیں ، تو دوسری طرف کچھ ایجادات کو توقع سے بڑھ کر پزیرائی حاصل ہوئی ۔زیر ِنظر تحریر کچھ ایسی ہی ایجادات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے جو اس وقت ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر نا صرف زیرِ استعمال آچکی ہیں، بلکہ ان کواپ ڈیٹ کر کے ان کے نئے ورژنز بھی بنائے جا رہے ہیں اور انہی آئیڈیاز پر کام کرتے ہوئے آنے والے برس 2018 میں مزید حیرت انگیزاور تہلکہ خیز ایجادات کی آمد بھی جلد متوقع ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی


یہ برس بھی آئی ٹی کے حوالے سے سب سے زیادہ موضوعِ بحث رہا ۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آج کی نوجوان نسل دراصل آئی ٹی ہی کی دنیا میں جیتی ہے ، سیل فونز ، ٹیبلٹ، آئی پیڈ، لیپ ٹاپس اور کمپیوٹر گیمزکے بغیر جیسے آج کا نوجوان ادھورا ہے ۔سو آئی ٹی ورلڈ میں سوفٹ ویئر کمپینیز آئے روز اپنی پراڈکٹس متعارف کرواتی رہیں ، جن میں سب سے زیادہ پذیرائی ورچوئل ریئلٹی اور آگمنٹڈ رئیلٹی کو حاصل ہوئی۔ ان دونوں میں بنیادی فرق تکنیک کا ہے ۔ آگمنٹڈ رئیلیٹی میں صارف سکرین پر چلتی فلم کو اس طرح بھی دیکھ سکتا ہے جس طرح وہ حقیقت میں ہے ۔اور اس کے لیئے روزمرہ میں استعمال کی جانے والی ڈیوائسز جیسے سمارٹ فون ہی استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ ورچوئل ریئیلٹی کے لیے ایک ہیڈ سیٹ الگ سےاستعمال کرنا پڑتا ہے جو کافی مہنگے ہونے کے باعث ابھی تک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے ۔

ایپل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کے مطابق اے آر میں وی آر کی نسبت زیادہ کشش ہے اور سمارٹ فونز کے ساتھ اس کے ہیڈ سیٹ با آسانی لگائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے سماجی رابطہ بھی ممکن ہوگا ۔ جبکہ وی آر میں اس طرح کی سہولت ابھی تک ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی کیمرہ فیچر میں اے آر متعارف کروا چکی ہیں ۔ گوگل نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سپیشل افیکٹس اور لینز فوکسنگ میں اس کےپراڈکٹس متعارف کروا نے کا پروگرام بنایا ہے ۔دوسری طرف ٹینگو اور پوکومین اے آر کو بڑے پیمانے پر گیمز میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں سو آنے والا برس بلاشبہ آگمنٹڈ ریئلٹی کا سال ہوگا۔

سال2017 کی کچھ اہم آئی ٹی ایجادات یہ ہیں۔

بیٹری فری موبائل فونز ‘ نیٹ ورک فری سمارٹ فونز ‘ گوگل وائس سرچ ان اردو ‘ سمارٹ سیکیورٹی کیمرہ‘ گوگل پیٹنٹ ٹاک ‘ موتھ آئی فار مور گلیئر ‘ مشین کرننگ ایوولیوشن اور فزیکل ڈیجیٹل انٹیگریشن ۔

ایروسپیس


بین الاقوامی خلائی مرکز میں طویل عرصے تک قیام کرنے والے خلابازوں کو سب سے زیادہ مسئلہ نیند کی کمی اور اعصابی دباؤ کا ہوتا ہے کیونکہ معلق حالت کی وجہ سے نیند کے دوران یا سپیس واک کے دوران ان کےگم ہوجانے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ رواں برس اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہوئی ۔کیمبرج میسا جوسسٹس میں واقع چارلس سٹارک لیبارٹری کے سپیس انجینئر کیون ڈیوڈ ا نے ایک سیلف ریٹرن سپیس سوٹ تیار کیا ہے جو خلا میں جی پی ایس کی کسی مخصوص جگہ غیر موجودگی اور خراب خلائی حالات میں بھی خلابازوں کی درست جگہ نشاندہی کر سکےگا۔ اس سپیشل سوٹ میں پہلے کی نسبت زیادہ آکسیجن اور دیگر سہولیت کا بھی انتطام کیا گیا ہے جس میں واپسی کے راستے کی درست معلو مات قابل ذکر ہیں ۔ فی الوقت خلا باز جو لباس استعمال کرتے ہیں وہ کافی حد تک مینول ہے اور خلا میں ان کی کسی جگہ موجودگی کے بارے میں سگنلز دینے سے قاصر ہے ۔ ناسا اور یورپین سپیس ایجنسی کے سائنسدان اس جدید خلائی لباس کو ایک انقلابی ایجاد قرار دے رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ فائدہ مارس مشن پر جانے والے خلابازوں کو ہوگا۔

سال 2017 کی کچھ اہم ایرو سپیس ایجادات یہ ہیں ۔

اپولو سیلف ڈرائیون ٹیکنالوجی‘ بے بی وورن فار مارس سیٹلرز‘ ہوائی جہازوں کی چھت پر وائی فائی کی تنصیب‘ ڈرون بائک‘ اسٹیلتھ طیاروں کا نیا انجن اوربغیر پائلٹ کے اڑنے والےخود کار طیارے

بایو ٹیکنالوجی


ہر سال کی طرح 2017 میں بھی نامور کمپنیوں نے نئی بایو لوجی تکنیکس متعارف کروائیں مگر سب سے بڑی انقلابی ایجاد ’فنگر پرنٹس ‘ کی جدید تکنیک کو قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے محض انگلیوں کے نشانات سے کسی بھی شخص کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔مثلا ََ اس نے کس چیز کو ہاتھ لگایا تھا یا اس کی صنف ، خوراک ، منشیات و شراب نوشی کے بارے میں معلوم کیا جاسکے گا جس کے ذریعے عدالتوں میں مقدمات کے دوران انقلابی پیش رفت ممکن ہوگی اور دھوکا دینا یا جھوٹے ثبوت پیش کرنا ممکن نہیں رہیگا ۔ برطانیہ کی شیفلڈ ہالم یونیورسٹی کے سائنسدان برطانوی پولیس کی مدد سے اس طریقۂ کار پر تجربات میں مصروف ہیں اور اب تک کے نتائج بہت حوصلہ افزاء ہیں ۔ سائنسدان پر امید ہیں کہ فنگر پرنٹ کی نئی ٹیکنالوجی سے سنگین نوعیت کے جرائم جیسے ریپ یا قتل کے مجرموں کو پکڑنے میں بہت مدد ملے گی۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سیمونا اس امر پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ انگلیوں کے نشانات میں پسینہ ہوتا ہے اس سے بھی مجرم کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔

سال2017 کی کچھ اہم بایو ٹیک ایجادات یہ ہیں ۔

سمارٹ ایگزو سکیلی ٹن‘ بَگ ڈیلیوری ڈرونز( حشرات کو پکڑنے والے ڈرونز )، سمارٹ ٹیپ ریکارڈر اور انسانی جسم کے اندر دیکھنے والا کیمرہ

ہارڈ ویئر


دنیا کے مختلف خطوں میں آبادی اور تیز ذرائع رسل و رسائل کے ساتھ توانائی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے جس میں پاکستان سر فہرست ہے۔ موجودہ حالات میں بایو فیول کو توانائی کا ایک اہم متبادل سمجھا جا رہا ہے ۔ 2017 اس حوالے سے یادگار رہے گا کہ اس برس این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے چند ہونہار طلبا و طالبات نے نیم اور جٹروفا کے بیجوں سے بایو ڈیزل بنانے کا میاب تجربہ کیا جس میں ان کے بیجوں سے تیل نکال کر اور کیمیائی عمل سے گزار کر میتھا نول اور کیٹالسٹ شامل کرکے ایک مخصوص درجۂ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے جس سے یہ ڈیزل اور گلیسرین میں تحلیل ہوجاتا ہے انھیں بعد میں باآسانی الگ کر لیا جاتا ہے ۔فی الوقت یہ طلبا ء اسی یونیورسٹی کےآٹو موٹو انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی مدد سے بایو ڈیزل کو گاڑیوں میں استعمال کرنے پر تجربات کر رہے ہیں اور پھر اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اس فیول کی ایک افادیت یہ ہے کہ خوردنی بیجوں سے حاصل کیے جانے کے باعث اس سے آلودگی زیادہ نہیں ہوگی اور یہ ماحول میں کم کاربن خارج کریگا ،اس کے علاوہ دیگر ذرائع کے برعکس اسکی لاگت بھی انتہائی کم ہے۔ اگر اس منصوبے کو حکومتی سر پرستی حاصل ہوجائے تو پاکستان میں توانائی اور آلودگی دونوں کے بحران سے با آسانی نمٹا جا سکتا ہے۔

سنہ 2017 کی کچھ اہم ہارد ویئر ایجادات یہ ہیں ۔

بیم آف ویزیبلیٹی ( پانی کے اندر چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت)‘ ڈزنی میجک بینچ ‘ سیلف ڈرائیونگ کا ر نوبز ‘ انڈکشن ہیٹنگ مشین‘ ہائیدروجن ٹرین (ہائیڈروجن سیل نظام پر چلنے والی ٹرین ) اور فولاد سے بھی زیادہ مضبوط ربر۔

روبوٹس


آرٹیفیشل انٹیلی جینس نے ہر شعبے میں اپنی اہمیت منوا کر انسان کو ایسے دور میں داخل کردیا ہے جہاں اے آئی کے بغیر اس کی زندگی نا مکمل اور ادھوری ہے۔ اگرچہ یہ ایک خطرناک صورتحال بھی ہےاور مغربی ممالک میں بڑے پیمانے پر اس کے حد سے زیادہ استعمال پروقتاََ فوقتا ََ آواز بھی اٹھائی جا تی رہی ہے مگر دوسری جانب اس کی افادیت سے بھی ہر گز انکار ممکن نہیں ۔ رواں برس ہمسایہ ملک چین کے کئی شہروںمیں ایسے ‘لیگل روبوٹس’ عدالتوں میں تعینات کیئے گئے ہیں جو مقدمات کی از خود جانچ پڑتال کر کے فیصلہ سنا سکیں گے ۔ اس سے فوری اور بروقت انصاف کے ساتھ مکمل شفاف فیصلہ ممکن ہوگا ۔ ستمبر میں اپنے کام کا آغاز کرنے والے یہ لیگل روبوٹس اب تک ہزاروں کی تعداد میں کیس نمٹا چکے ہیں ۔ اشیائی ممالک خصو صاً انڈیا اور پاکستان میں اس طرح کے روبوٹس کی شدید ضرورت ہے جہاں عدالتی کاروائیاں بعض اوقات عشروں پر محیط ہوجاتی ہیں اور تب بھی شفاف فیصلہ ممکن نہیں ہوتا ۔ان لیگل روبوٹس کو انسانی دھڑ کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے مگر ان کے ہاتھ نہیں بنائے گئے۔ ان کی چہرہ نما ڈیجیٹل سکرین پر آنکھیں اور منہ نما یاں دکھائی دیتے ہیں ۔

سنہ 2017 کی کچھ اہم روبوٹکس ایجادات یہ ہیں ۔

روبوٹ جیسا موبائل فون‘ بچوں کے جذبات سمجھنے والی روبوٹ گڑیا ‘ ڈرائیونگ اورفلائنگ کے ماہر روبوٹ‘ روبوٹس کے لیے آرٹیفیشل سکن‘ اور پولیس مین روبوٹس۔

ہوم ایپلی کینس


سمارٹ ہومز کا تیزی سے بڑھتا استعمال سائنسدانوں کو ایسی نئی ایجادات پر اکسا رہا ہے جن کے ذریعے سمارٹ ہومز کے تصور کو پوری طرح حقیقت کے روپ میں پیش کیا جا سکے۔ اس حوالے سے 2017 میں ایک بڑی پیش رفت معروف امریکی کمپنی’ٹیسلا ‘ نے کی اور ایسی ٹائلز متعارف کروائی جو سورج کی روشنی سے از خود بجلی پیدا کر سکتی ہیں ۔ ان ٹائلز سے بنی چھت کو ‘سولر روف ‘ کا نام دیا گیا ہے جنھیں مضبوط شیشے سے بنایا گیا ہے تقریبا ََ اکسٹھ لاکھ پاکستانی روپوں میں دستیاب اس سولر روف سے گھر کو ایک مکمل سٹالش انداز میں تعمیر کیا جاسکےگا جو توانائی میں خود کفیل ہوگا ،اس روف کی تیس برس کی گارنٹی بھی ساتھ دی جائےگی۔ فی الحال سمارٹ ہوم کی یہ سہولت صرف امریکہ میں دستیاب ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے اسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے ایسے عینک تیار کیے ہیں جو ایک موبائل فون کو چارج کرنے کے لیے بجلی پیدا کرتے ہیں ۔اس کے ذریعے کھڑکیوں کے ایسے شیشے بھی بنائے جا سکتے ہیں جو سولر سیل کے طور پر لگائے جائیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں اگلے برس تک اس طرح کے سیلز مختلف رنگوں اور سائز میں دستیاب ہونگے۔

سال  2017میں سائنسدانوں نے شب و روز محنت سے صارفین کو بڑی مقدار میں گھریلو سہو لتیں فراہم کیں ، جن میں سے کچھ اہم یہ ہیں ۔

سمارٹ سٹریٹس ‘ ڈیجیٹل تالا‘ سمارٹ الارم ‘ سمارٹ کلاتھ سٹینڈ‘ الیکٹرانک ہینگر‘ روبو فریج اور سمارٹ سیکیورٹی کیمرا


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top