The news is by your side.

Advertisement

سندھ رینجرز کی جانب سے طلباء کی حفاظت کےلئے اپیلی کیشن متعارف

کراچی : تعلیمی اداروں میں سیکورٹی نظام کو موثر بنانے کے لئے رینجرز کی جانب سے کالج پروٹیکشن موبائل اپیلی کیشن متعارف کروادی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو اور رینجرز کے کرنل قیصر نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شہر میں تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کو موثر بنانے کے لئے ایپلی کیشن متعارف کرائی جارہی ہے۔

اس موقع پر کرنل قیصر نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کی روک تھام کے لئے سافٹ وئیر ایپلی کیشن متعارف کرائی جارہی ہے،جس کے زریعے دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سسٹم کے تحت پہلے مرحلے میں کراچی کے تین ہزار اسکول اور کالجز کا ڈیٹا جمع کیا جاچکا ہے، سسٹم کو وقت کے ساتھ مزید وسیع کیا جائےگا، کسی بھی شکایت پر فوری رسپارنس کے لئے مختلف ونگز پر ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

سیکورٹی کو موثر بنانے کے لئے کراچی کو 60 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک حصے کی ذمہ داری اس کے علاقائی ونگ کے سپرد کی گئی، طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے 15 مقامات پر ونگز کی سطح پر کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں، جو فوری رسپانس کے لئے اقدامات کریں گے۔

تعلیمی اداروں کے مالکان کسی بھی مشکل کی صورت میں اس سسٹم پر ایک میسج چھوڑ دے گا، جو گروپ میں موجود تمام افراد کےعلاوہ کمپنی کمانڈرز،سیکٹر کمانڈرز اور ونگ کمانڈرز کے موبائل پر بھی موصول ہوجائے گا، پیغام موصول ہونے کے بعد سیکورٹی ادارے کی جانب سے فوری ایکشن لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ شہر قائد میں 15 ہزار سے زائد تعلیمی ادارے موجود ہیں، غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد قریبی رینجرز چوکی پر جاکر رجسٹریشن کو مکمل کروالیں تاکہ شہر میں امن و امان کو یقینی بنایا جاسکے۔

جلد اس سسٹم کے دائرے کو وسیع کر کے عوامی مقامات، تفریح گاہوں، شاپنگ مالز اور اسپتالوں میں متعارف کرایا جائے گا تاکہ عوام کا جان و مال ہر صورت یقینی بنایا جاسکے۔

اس موقع پر مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور رینجرز ایک پیچ پر ہیں، کراچی آپریشن میں سندھ پولیس اور رینجرز نے امن و امان بحال کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے جو قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سسٹم سب سے پہلے صوبہ سندھ میں متعارف کروایا گیا ہے اوراس سسٹم کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت لاگو کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ رینجرز ہمارا اپنا ادارہ ہے اور اپنے اداروں کے سامنے اپنے تحفظات رکھنا جرم نہیں ہے ۔

قبل ازیں رینجرز کی جانب سے عوام کے لئے دیگرسہولیات متعارف کروائی گئی ہیں، جن کے ذریعے عوام اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کی رپورٹ درج کراتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں