site
stats
اہم ترین

سانحہ سیہون کا مرکزی ملزم نادرجکھرانی عرف مرشد گرفتار

کراچی : سانحہ سیہون کا مرکزی ملزم نادرجاکھرانی عرف مرشد پکڑا گیا، دہشتگرد نے خودکش بمبار کو مزار تک پہنچایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ سیہون کیس کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ، لعل شہباز قلندر کے مزار کو خون سے لال کرنے والا دہشت گرد شکنجے میں آگیا۔

ذرائع کے مطابق ملزم نادر جکھرانی عرف مرشد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا‌، نادر جکھرانی کا تعلق کالعدم داعش سے ہے اور سانحےکا مرکزی کردار ہے۔

گرفتار ملزم نادرجکھرانی عرف مرشد کا تعلق راجن پورپنجاب سے ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ ملزم نے افغانستان سے لائے گئے خودکش بمبار کو مزار تک پہنچایا تھا، ساتھی دہشتگرد سانحہ کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹرغازی مستونگ آپریشن میں مارا جا چکا ہے، دہشت گرد سے اسلحہ اور دھماکاخیز مواد بھی برآمدہوا۔


مزید پڑھیں : سیہون دھماکہ: خودکش بمبار کے سہولت کاروں کی نشاندہی


ابتدائی تحقیقات میں سانحے سے متعلق اہم انکشافات ہوئے ، جس کے مطابق ملزمان خودکش حملہ آور سمیت حملے سے ایک روز پہلے سیہون پہنچے، لعل شہبازقلندر کے مزار سے کچھ فاصلے پر گیسٹ ہاؤس میں رہائش لی۔

خودکش حملہ آور مزار، نادرجکھرانی سیہون کے مرکزی چوک پہنچا اور دھماکے کے فوری بعد ڈاکٹر غازی اورنادرجکھرانی راجن پور فرار ہوگئے۔

سی ٹی ڈی نے ملزم کا پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس فروری میں سیہو ن میں لعل شہباز قلندر کے مزار پرخودکش حملے میں اسی سے زائد افراد شہید اورسیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top