The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے کا اے ٹی آرطیارے روسی ساختہ طیاروں سے تبدیل کرنے پرغور

کراچی: قومی ایئرلائن نے خسارے کا سبب بننے والے اے ٹی آر طیاروں کی جگہ فضائی بیڑے میں روسی ساختہ طیارے استعمال کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

تفصیلا ت کےمطابق روسی اور یورپی ممالک کے اشتراک سے جنگی طیارہ ساز کمپنی سیخوئی نے سو نشستوں والے کمرشل جیٹ طیاروں کی فراہمی کی پیشکش کردی ہے ۔ پی آئی اے انتظامیہ اس پیشکش کے بعد ناکارہ اور خسارے کا سبب بننے والے اے ٹی آر طیاروں کی تبدیلی کا جائزہ لے رہی ہے۔

سیخوئی نامی اس کمپنی نے پی آئی اے حکام کو اسلام آباد میں کمرشل جیٹ طیارے کا معائنہ بھی کرادیا ہے اورایئر لئان کے انجینرز کا کہنا ہے کہ سفید ہاتھی بنے اے ٹی آر طیاروں کی جگہ روسی ساختہ طیارے بہتر ثابت ہوں گے۔

طیارہ حادثہ،ایک انجن آخری وقت تک ٹھیک تھا

ذرائع کا کہنا ہے کہ 10طیاروں کی خریداری پرسیخوئی کمپنی پی آئی اے کے 100پائلٹوں کو بلامعاوضہ ٹریننگ بھی فراہم کرے گی۔

طیاروں کی خریداری سے متعلق بورڈ آف ڈائریکٹر تاحال لاعلم

دوسری جانب روسی طیارہ ساز کمپنی سیخوئی سمیت دیگر کمپنی سے طیاروں کی ممکنہ خریداری کے بارے پی آئی اے کا بورڈ آف ڈائریکٹر تاحال لاعلم ہے، مذکورہ طیاروں سمیت دیگر طیاروں کی ڈرائی یا ویٹ لیز پرخریداری بھی تاحال واضح نہیں۔

اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے ائر لائن کو درکار طیاروں کا ابتدائی پلان بھی بورڈ کو اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے، طیاروں کی خریداری کے لئے درکار کیش فلو کا انتظام بھی مبینہ طور پر نہیں کیا جا سکا ہے۔

ذرائع کے مطابق سو نشستوں کے حامل سیخوئی طیارے قومی ائر لائن کو درکار ضروریات کے لئے ناکافی ہیں۔

اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے طیاروں کی خریداری کے لئے فیصلے کی حتمی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز سے لی جائے گی۔

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید سمیت 142 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

حادثے کے بعد اے ٹی آر طیاروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے تھے‘ اس وقت کے پی آئی اے کے سی ای او نے کہا تھا کہ طیارہ 2007 میں بنا تھا اور ایک سال قبل ہی پی آئی اے کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں