سندھ کا قدیمی ورثہ ’’برہمن آباد‘‘ حکومتی توجہ کا منتظر
The news is by your side.

Advertisement

سندھ کا قدیمی ورثہ ’’برہمن آباد‘‘ حکومتی توجہ کا منتظر

کراچی: سندھ کے قدیم اور تاریخی ورثے برہمن آباد (منصورہ) کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس کی خستہ حالی کا نوٹس لینے کے لیے  سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین آثار قدیمہ نے اس ورثے کی حالتِ زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ 

تفصیلات کے مطابق سندھ کے قدیمی ورثے برہمن آباد (منصورہ) کے ورثے کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس کی اصل تاریخ عوام تک لانے کے لیے پاکستان نیشنل میوزیم کراچی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ علاقہ 1400 سال قبل ہندو اکثریتی علاقہ تھا تاہم یہ مذہبیت کی بھینٹ چڑھ کر تباہ ہوگیا۔ سیمینار میں موجود شرکا نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’برہمن آباد کی تہذیب کو بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں‘‘۔

شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد اس تاریخی ورثے کی ذمہ داری حکومت سندھ پر عائد ہوتی ہے، پیپلز پارٹی اس قدیمی ورثے کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور برہمن آباد پر نئے سرے سے تحقیقات کروا کر اس کی اصل مصدقہ تاریخ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

مقررین نے کہا کہ حکومتی اداروں کی لاپروائی کی وجہ سے یہ تاریخی ورثہ سمٹ کر چند کلومیٹر پر رہ گیا ہے جس میں بدستور باقیات چوری ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور قبضہ مافیا کی وجہ سے کمی واقع ہورہی ہے، برہمن آباد کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کے محل و قوع کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے اور اس تاریخی ورثے کی مستقل بنیادوں پر حفاظت کا انتظام کیا جائے۔

سندھ یونیورسٹی آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس منصوبے پر توجہ نہ دینے کی وجہ صرف اس کا نام ہے، محمد بن قاسم نے سندھ آنے کے بعد اس علاقے کا نام تبدیل کر کے منصورہ رکھ دیا تھا، حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے منصورہ یا برہمن آباد یا کچھ بھی سمجھ کر حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرے کیونکہ یہ جگہ طاقت ور قبضہ مافیا کی نظر میں ہے۔

سیمینار کے اختتام پر ایک قرارداد پیش کی گئی جس کی تمام شرکا نے بھرپور حمایت کی، قرارداد میں کہا گیا تھا کہ برہمن آباد کے بچ جانے والے آثار قدیمہ کی حفاظت اور ان کی دوبارہ تعمیرات کی جائیں۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومتِ سندھ محکمہ ثقافت اور آکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر اس تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے عملی و موثر اقدامات کرے۔

دریں اثناء ڈاکٹر در محمد پٹھان ، ڈاکٹرحنیف لغاری ،ڈاکٹر الطاف اصیم،عبدالحلیم شرر، پروفیسر محمد خان پنہور،پروفیسر ممتاز بھٹو اورماجد صدیقی نے برہمن آباد کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے خطاب کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں