The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ الیکشن: سندھ اسمبلی میں نمبر گیم کس کے حق میں؟

کراچی: سینیٹ الیکشن کے لیے سندھ اسمبلی میں نمبر گیم کس کے حق میں ہے؟ اے آر وائی نیوز کی اس اہم رپورٹ سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں 21 ارکان کے ووٹ سے جنرل نشست پر ایک سینیٹر منتخب ہوگا، اور خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے 56 ارکان کے ووٹوں کی ضرورت ہوگی، جب کہ صوبائی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 168 ہے۔

گزشتہ روز ملیر اور سانگھڑ الیکشن جیتنے کے بعد صوبے کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلی میں 99 نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف 30 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، ایم کیو ایم 21 نشستوں کے ساتھ اسمبلی میں تیسری اکثریتی جماعت کی پوزیشن پر موجود ہے، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے پاس 14 سیٹیں، تحریک لبیک پاکستان 3، اور ایم ایم اے کے پاس ایک نشست ہے۔

سینیٹ کا میدان، کس کا پلڑا ہوگا بھاری، کس کو پہنچے گا نقصان؟

سندھ کے سینیٹ انتخابات کے دوران ٹی ایل پی کے 3 اور ایم ایم اے کا ایک رکن اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سندھ اسمبلی میں سینیٹ کی 7 جنرل، 2 ٹیکنوکریٹ اور 2 خواتین کی مخصوص نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

سندھ سے پیپلز پارٹی کے 7 سینیٹرز اپنی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہو رہے ہیں، ایم کیو ایم کے 4 سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں۔

اس پس منظر میں ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور جی ڈی اے متحد ہو کر انتخابات میں جاتی ہیں تو ایم کیو ایم کے لیے ایک جنرل نشست کے ساتھ ساتھ ایک ٹیکنوکریٹ یا خواتین کی مخصوص نشست حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بھی متحدہ اپوزیشن کی صورت میں 2 نشستیں حاصل کر سکتی ہے، ایک سینیٹ نشست جی ڈی اے کو بھی مل سکتی ہے، تاہم ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حکومتی جماعت اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان مقابلے کا امکان ہے۔

اگر اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد رہا تو جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی مخصوص نشست ملا کر کم سے کم 4 اور زیادہ سے زیادہ 5 نشست نکال سکتی ہیں، اور یوں پیپلز پارٹی 6 نشستوں تک محدود رہ سکتی ہے۔

اگر اپوزیشن اتحاد میں کوئی بھی مسئلہ آیا تو ایم کیو ایم اور تحریک انصاف دونوں ایک ایک نشست گنوا سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں