The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

اسلام آباد : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ بل پیر کو قومی اسمبلی  میں پیش کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں میں مکمل اتفاق رائے پیدا کرنے اور دیگر جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کےلئے سینیٹ اورقومی اسمبلی اجلاس کاشیڈول تبدیل کردیاگیا۔

قومی اسمبلی کا آج ہونے والااجلاس اب پیرکی سہ پہر چاربجے اورسینیٹ کا اجلاس پیرکی سہہ پہر تین بجےہوگا۔

آرمی چیف اور دیگرسروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ بل پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے حکومت دونوں ایوانوں سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرانا چاہتی ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے حمایت کا اعلان کردیا ہے تاہم اس دوران جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف سمیت دیگر جماعتوں کے بھی تحفظات دور کیے جائیں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی سے بلز کی منظوری کے لیے صرف سادہ اکثریت درکار ہے پھر بھی کوشش کی جارہی ہے کہ بل کو تمام جماعتوں کے حمایت سے منظور کرایا جائے۔

مزید پڑھیں : قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی

گذشتہ روز سینیٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کی منظوری دی تھی ، اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ترمیمی ایکٹ 2020 پیش کیا تھا ، وزیر دفاع نے پاکستان ائیر فورس ترمیمی ایکٹ 2020 اورپاکستان بحریہ ترمیمی ایکٹ 2020 بھی پیش کیا، جس کے بعد تینوں بلوں کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیج دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یکم جنوری کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، ترمیمی مسودے میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا۔

بل میں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی ہے ،آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں