The news is by your side.

سینیٹ انتخابات: صوبائی اسمبلیوں میں‌ بچھی بساط پر ایک نظر

آج سینیٹ کی 104 میں سے 52 نشستوں پر انتخاب ہونے جارہا ہے۔ پولنگ صبح 9 شروع ہوگی اور چار بجے تک جاری رہے گی۔

ایوان بالا کے انتخابات میں اصل مقابلہ صوبائی اسمبلیوں میں ہوتا ہے، جہاں ہر اسمبلی میں جیتنے والے امیدواروں کو درکار ووٹوں کی تعداد میں فرق ہوتا ہے۔ اس کا کلی انحصار ارکان صوبائی اسمبلی کی تعداد پرہے۔ سب سے کم ووٹ بلوچستان، جب کہ سب سے زیادہ ووٹ پنجاب سے سینیٹ انتخابات میں اترنے والے امیدوار کو درکار ہوتے ہیں۔ آئیں، اب ہر اسمبلی کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں۔

صوبائی اسمبلیاں: کب، کہاں، کیا ہوگا؟

پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تعداد 371 ہے۔ یہاں 12 سینیٹرز منتخب ہوں گے۔ پنجاب میں جنرل نشست پرمنتخب ہونے والے 7 امیدواروں میں ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار ہوں گے۔ خواتین کی دو، علما اور ٹیکنوکریٹس کی دو اور اقلیتوں کی ایک نشست پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار سینیٹر منتخب ہوگا۔

سندھ اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 168 ہے۔ یہاں بھی 12 سینیٹرز کا انتخاب ہوگا۔ جنرل نشستوں پر سات سینیٹرز چنے جائیں گے۔سندھ میں ہر سینیٹر کو جیت کے لیے 24 ووٹ درکار ہوں گے۔ خواتین کی دو مخصوص نشستوں، علما اور ٹیکوکریٹس کی دو اور اقلیتی نشست پر ایک سینیٹر منتخب ہوگا۔

اب خیبرپختون خواہ پر نظر ڈالتے ہیں، جہاں 124 ارکان 11 سینیٹرز کا انتخاب کریں گے۔ کے پی کے کی سات جنرل نشستوں پرہر امیدوار کو جیت کے لیے 18 ووٹوں کی ضرورت ہوگی، خواتین کی مخصوص نشستوں پر دو، علما کی نشستوں پر دو سینیٹر ز کو منتخب کیا جائے گا۔


سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق جاری


بلوچستان اسمبلی میں ارکان کی تعداد 65 ہے۔ یہاں سے گیارہ سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔ جنرل نشست پر منتخب ہونے والے سات سینیٹرز میں ہر ایک کو جیت کے لیے 9 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔ خواتین کی دو اور علما اور ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار سینیٹر منتخب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ انتخابات میں بلوچستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔


سینیٹ انتخابات کیلئے سندھ اسمبلی میں اراکین کی بولیاں لگنے کا انکشاف


قومی اسمبلی اور فاٹا ارکان

اب نظر ڈالتے ہیں قومی اسمبلی پر، جہاں ارکان کی تعداد 342 ہے، یہاں جنرل اور ٹیکنو کریٹ کی ایک ایک نشست پر سینیٹر کا انتخاب ہوگا۔ ہرسینیٹر کو جیت کے لیے 171 ووٹ درکار ہوں گے۔ یعنی سب سے کڑا مقابلہ قومی اسمبلی میں ہوگا۔

قومی اسمبلی میں فاٹا ارکان کی تعداد گیارہ ہے۔ فاٹا سے سینیٹ کے چار امیدوار منتخب ہوں گے، جن کے لیے قومی اسمبلی کے فاٹا ارکان ہی ووٹ دیں گے، یعنی ایک امیدوار کو جیت کے لیے تین ووٹ کافی ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں