The news is by your side.

Advertisement

بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ہے: سینیٹر نزہت صادق

اسلام آباد: سینیٹر نزہت صادق نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ہے،ادارے اور قوانین موجود ہیں، عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر نزہت صادق کی زیرِ صدارت سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، نزہت صادق نے کہا کہ ادارے اور قوانین کی موجودگی کے با وجود بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ہے۔

عالمی سطح پر بچوں سے متعلق قوانین نہایت سخت ہیں، پاکستان میں صرف جسمانی، جنسی تشدد کو زیادتی سمجھا جاتا ہے۔

اجلاس میں بلوچستان کے محکمۂ اسپیشل ویلفیئر کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی، صوبائی حکام نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016 پر عمل درآمد جاری ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ صوبائی کمیشن فار چائلڈ پروٹیکشن میں حکومت، سِول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں، یہ کمیشن حکومت کو بچوں کے تحفظ کے لیے نئی پالیسیاں فراہم کرے گا، صوبائی سطح پر ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ صوبائی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کی مختلف جیلوں میں 43 بچے قید ہیں۔

خصوصی کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی طور پر کا م نہیں ہوا، سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بچوں کی اسمگلنگ کی خبروں پر متعلقہ ادارے جواب دیں، عالمی سطح پر بچوں سے متعلق قوانین نہایت سخت ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے چائلڈ ہیلپ لائن قائم


سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پاکستان میں صرف جسمانی، جنسی تشدد کو زیادتی سمجھا جاتا ہے، اسلام آباد میں ٹریفک سگنلز پر بچے بھیک مانگتے ہیں، وفاقی دار الحکومت کی انتظامیہ سے جواب طلبی کی جائے، آئندہ اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ کو طلب کیا جائے۔

وزارتِ انسانی حقوق کے ڈی جی محمد ارشد نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ قوانین موجود ہیں عمل درآمد کی ضرورت ہے، ملک میں 67 فی صد بچوں کی برتھ رجسٹریشن نہیں کرائی جاتی، بھیک مانگنے والے بچوں کو وزارتِ انسانی حقوق تحفظ مرکز میں رکھا جا سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں