The news is by your side.

Advertisement

‘ پہلے الیکشن پھر میثاق معیشت ہوگا ‘

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اس حکومت کے ساتھ کوئی میثاق معیشت نہیں ہوگا پہلے الیکشن ہوں گے پھر میثاق معیشت ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کے ساتھ کوئی میثاق معیشت نہیں ہوگا پہلے الیکشن ہوں گے پھر میثاق معیشت ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کے اعتراضات کو سننا چاہیے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری تھے لیکن موجودہ حکومت نے فیصلہ نہ لیکر مذاکرات کو پٹڑی سے اتارا، جس طرح 13 پارٹیوں کی حکومت بنی اور فیصلہ سازی میں تاخیر ہوئی ان سے مسائل میں اضافہ ہوا، 4 سے 5 ہفتے فیصلے نہ کرنے سے مشکلات پیدا ہوئیں، بروقت فیصلے نہ کرنے سے زرمبادلہ ذخائر کم ہونا شروع ہوگئے اور مارکیٹ پر دباؤ آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل اکاؤنٹ کمیٹی کے نمبرز ہماری کارکردگی ہے، اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی گروتھ پچھلے سال 5.47 جب کہ رواں سال 5.97 ہے، ترسیلات زر میں بھی 6 سے7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، ہم نے حقائق سامنے رکھ کر بات کی ہے، کورونا کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلی دنیا نے سراہا، ہم نے ساڑھے5 ملین روزگار کے مواقع پیدا کئے، نچلے طبقے تک ثمرات نہیں پہنچتے اس لئے ہم نے کامیاب پاکستان پروگرام شروع کیا، صحت کارڈ کا بہت بڑا پروگرام شروع کیا، احساس راشن پروگرام بھی شروع کیا ملک میں ایکسپورٹس 27 فیصد بڑھیں۔

مہنگائی کا سپر سائیکل پاکستان سمیت دنیا بھر کو متاثر کررہا ہے، مہنگائی کا سپر سائیکل نیچے چلا جاتا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مسئلہ نہیں ہوتا، وجوہات سامنے ہیں کہ ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کررہے تھے، ہم قرض جی ڈی پی کے 64 فیصد پر چھوڑ کر گئے، گردشی قرض ن لیگ چھوڑکر گئی تھی، تجارتی خسارہ ہمارے دور میں 4 فیصد تھا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار 15 فیصد کم ہونے پر سوالیہ نشان ہے، ملک میں اس وقت ساڑھے7ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، پٹرول کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، ملک میں ساتھ ساتھ ایل این جی کا بھی فقدان ہے، پاکستان میں کوکنگ آئل کی قیمت 600 روپے سے بڑھ گئی ہے، آئی ایم ایف کو ساتھ لیکر نہیں چلیں گے تو کوئی آپ کو سپورٹ نہیں کریگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں