ہفتہ, جون 22, 2024
اشتہار

سرکاری اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کو دی جانے والی دوا میں سنگین غلطی کا انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

نوازئیدہ بچوں کو بخار کی دی جانے والی دوا کی رپورٹ آنے میں آٹھ ماہ لگ گئے جبکہ بچوں کوتقریباً ساری دوا پلا دی گئی۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سرکاری اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کو بخار کے لیے دی جانے والی دوا ’پیراسیٹامول سی بی پیڈیاٹرک اورل سسپنشن‘ کی جانچ کے بعد اس میں کئی خامیاں سامنے آئیں۔ جانچ کی رپورٹ آنے میں آٹھ ماہ لگ گئے اور تقریباً 98 فیصد دوا استعمال کر لی گئی۔

مذکورہ دوا نوزائیدہ بچوں سے لے کر 12 سال تک کے بچوں کو دی جاتی ہے اور اس معاملے میں حکام نے سنگین لاپروائی برتی۔ دوا کی خرابی کی خبر سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت حرکت میں آگیا ہے۔

- Advertisement -

سی ایم ایچ او ڈاکٹر سنجے مشرا نے بتایا کہ ایلگن اسپتال میں سپلائی کیے گئے اورل سیرپ میں موجود مواد اس کی نچلی سطح میں جم گیا تھا۔ بوتل کو ہلانے کے بعد بھی دوا ٹھیک طرح سے گھل نہیں رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ضلع دھار کے کویسٹ لیبارٹری پرائیویٹ لمیٹڈ میں تیار پیراسیٹامول پیڈیاٹرک اورل سسپنشن کی سپلائی ایم پی پبلک ہیلتھ آرگنائزیشن کے ذریعے سے کی گئی ہے۔

ریاست میں اس کا پہلا بیج 29 ستمبر 2022 کو بھیجا گیا تھا، جانچ کے لیے فوراً دوائی کا سیمپل لیا گیا۔ 18 اکتوبر 2022 کو ہونے والی ٹیسٹنگ رپورٹ میں سیرپ کو درست قرار دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر سنجے مشرا کے مطابق جبل پور سیرپ کا معیار مشتبہ ہونے پر 13 جولائی 2023 کو دوبارہ جانچ کی گئی کیوں کہ اورل سیرپ میں نیچے کی سطح پر کچھ جم رہا تھا جس کی وجہ سے بوتل کو زور سے ہلانے کے بعد بھی دوائی ٹھیک سے گھل نہیں رہی تھی۔

تاہم آٹھ ماہ بعد بھوپال فوڈ اینڈ ڈرگس محکمہ نے 22 مارچ 2024 کو رپورٹ دی جس میں انکشاف ہوا کہ سیرپ اسٹینڈرڈ کوالٹی کی نہیں ہے۔

ریاستی حکومت کے مجاز کارپوریشن نے پیراسیٹامول سی بی پیڈیاٹرک اورل سسپنشن کی 60 ایم ایل کی 20 ہزار سے زیادہ بوتل سرکاری اسپتال میں سپلائی ہوئی تھی، جس میں سے اسٹاک میں فی الحال 400 بوتل بچی ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں