The news is by your side.

Advertisement

کمسن ملازم کا قتل ‘ مسلم لیگی رکن اسمبلی کی بیٹی مقدمے سے بری

لاہور : مقامی عدالت نے مسلم لیگ ن کی ممبر صوبائی اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی کو کمسن ملازم کے قتل کے مقدمے سے بری کر دیا‘ ملزمہ کے خلاف مقدمہ اکبری گیٹ تھانے میں درج تھا۔

تفصیلات کے مطابق آج ہونے والی سماعت میں ایڈیشنل سیشن جج اعجاز الحسن نے ایم پی اے شاہ جہاں کی بیٹی ملزمہ فوزیہ کے خلاف دائر کردہ کیس پر فیصلہ سنایا ۔

عدالت میں مقدمے کے مدعی مقتول اختر کے لواحقین نے بیان حلفی جمع کروایا ‘ جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ مدعی نے ملزمہ کو معاف کر دیا ہے اور وہ اب اس کے خلاف مقدمے کی پیروی کرنا نہیں چاہتے ۔

ملازم کی لاش کی برآمدگی‘ لیگی ایم پی اے کی نا اہلی کے لئے درخواست دائر*

دوسری جانب کیس کے گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہو گئے جس پر عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ کو کمسن ملازم کو تشدد کرکے قتل کرنے کے مقدمے سے بری کر دیا۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے شاہ جہاں کی بیٹی فوزیہ اسلام پر اپنے کمسن گھریلو ملازم اختر علی پر تشدد کر کے اس کو قتل کرنے کا الزام تھا‘ ملزمہ کے خلاف تھانہ اکبری گیٹ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر رکھا تھا۔

ملزمہ فوزیہ کے تشدد سے اختر نامی ملازم جاں بحق اور اس کی بہن زخمی ہوئی تھی تاہم ملزمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ملازم کی موت تشدد سے نہیں ہوئی ‘ وہ پہلے سے بیمار تھا۔

خیال رہے کہ اسی مقدمے کے سبب مسلم لیگ ن کی ایم پی اے شاہ جہاں کی نا اہلی کے لیے بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے ‘ جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ لیگی ایم پی اے شاہ جہاں کی بیٹی کے گھر سے 15 سالہ ملازم کی تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی جو ایک سنگین جرم ہے ۔

درخواست گزار کے مطابق ان جرائم کی وجہ سے مسلم لیگی رکن اسمبلی پارلیمنٹ کا حصہ بننے کے اہل نہیں رہیں ‘ لہذا عدالت لیگی ایم پی اے شاہ جہاں کو نا اہل قرار دے کر گرفتاری کا حکم دے جبکہ کیس کے فیصلے تک شاہ جہاں اور ان کی بیٹی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں