The news is by your side.

Advertisement

’میرے بچے کو سمجھا دیں‘ کشمیر کے سودے کے بیان پر شاہ محمود کا بلاول کا نام لیے بغیر طنز

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج سینیٹ میں کہا کہ میں شیری رحمان سے اتفاق کرتا ہوں خارجہ پالیسی طویل المدتی بننی چاہیے، لیکن اپنے زیر تربیت کو سمجھا دیں ایسے بیان نہ دیں کہ کشمیر کا سودا کر دیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود سینیٹ میں اظہار خیال کر رہے تھے، انھوں نے کہا ہم سے پہلے ایک حکومت تھی جس کے حلق میں کشمیر کا نام اٹک جاتا تھا۔ شاہ محمود نے شیری رحمان کو مخاطب کر کے کہا میرے بچے کو سمجھا دیں کہ کشمیر سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں۔

شاہ محمود نے بلاول بھٹو کا نام لیے بغیر طنز کرتے ہوئے کہا کوئی مائی کا لال کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا، سمجھا دیجئےگا میرے بچے کو کہ ایسی بات نہ کرے۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال میں کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ خارجہ پالیسی کے مسائل پارلیمان میں حل ہوں گے، کشمیر پر عالمی کانفرنس کیوں نہیں منعقد ہو رہیں؟ کشمیر پر مشترکہ اجلاس بھی ہمارے مطالبے پر بلایا گیا۔ انھوں نے کہا صدر بائیڈن پاکستان اور خطے کے معاملات سے آگاہ ہیں، امریکا پاکستان کو افغانستان کے زاویے سے دیکھ رہا ہے، لیکن حکومت کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

وزیر خارجہ نے کہا خارجہ پالیسی کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں، آج درپیش حالت کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں جو بار بار اقتدار میں رہے، وہ بھی ذمہ دار ہیں جو کشمیر کمیٹی میں رہے، تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خارجہ پالیسی میں پاکستان تنہا رہ گیا، لیکن یہ صرف بھارت کی ناکام کوشش ہے، آج بھارت پر جو انگلیاں اٹھ رہی ہیں یہ پاکستان کے خلاف تھیں۔

انھوں نے کہا میں ابھی یو اے ای سے ہو کر آیا ہوں، ان کے وزیر خارجہ سے 3 گھنٹے ملاقات ہوئی، دبئی کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنا پروفیشنلز کی بنیاد پر فطری بات ہے، دبئی کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت کی وجہ سے متاثر نہیں ہو سکتے، یو اے ای نے واضح کہا کہ بھارت سے تعلقات پاکستان کی قیمت پر نہیں بنائیں گے۔

شاہ محمود نے سعودی عرب سے تعلقات سے متعلق اعتراض پر کہا ہم سعودی عرب سے ادھار پر تیل تاحیات نہیں لے رہے تھے، یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاہدہ محدود مدت کے لیے تھا، جب ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہم نے ادائیگیاں کر دیں، اس میں تعلقات خراب کرنے والی کیا بات ہوئی، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بے چینی کی کوئی بات نہیں، ہمارے تعلقات اسٹریٹجک ہیں، وہ پاکستان کی اہمیت جانتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں