The news is by your side.

Advertisement

یہ تو استعفے دینے آئے تھے پھر راتوں رات کیا ہوا یہ راز نہیں کھولنا چاہتا، شاہ محمود قریشی اپوزیشن پر برس پڑے

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ تو استعفے دینے آئے تھے پھر راتوں رات کیا ہوا یہ راز نہیں کھولنا چاہتا، یہ بل پاس ہویانہ ہوہمارامؤقف واضح ہے، ادب سےچلوادب سےچلیں گے ، بات سنو،بات سنیں گے، بات کرو بات کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کی ترمیم کےپیچھے ایک لاجک ہے۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر کےدوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا ، جس پر ٹھنڈے مزاج کے شاہ محمود کو بھی غصہ آگیا ، انھوں نے کہا میں تقریرنہیں کررہا، یہ دوغلے ہیں جمہوریت کے علمبرداربن جاتے ہیں ، اپوزیشن کا ایسا رویہ ہوگا تو ہاؤس ایسے نہیں چلےگا، حد ہوتی ہے،ہم نے بہت برداشت اور لحاظ کیا ہے ، ناپوزیشن کا رویہ ایسا ہوگا تو کوئی بھی بات نہیں کرسکے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بات کرتے ہیں تو انھیں سننا بھی پڑے گا، اسمبلی میں یکطرفہ بحث قابل قبول نہیں ہے، یہ کوئی طریقہ نہیں،اجلاس کی کارروائی  بلڈوز نہیں کرنے دیں گے ،پی پی،ن لیگ کواستعمال کرکےجمہوریت کی علمبرداربن جاتی ہے۔

شاہ محمودقریشی نے 26ویں آئینی ترمیم پرموقع دینے پراسپیکر صاحب شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا آج قوم انکے چہروں کو دیکھ  اور پہچان رہی ہے ، یہ نہیں چاہتےکہ ترمیم نہ ہوسکے، یہ ضمیرکےخریدوفروخت کےعادی ہیں ، عمران خان نےکہاتھاشفاف اصلاحات سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کا کوئی نظریہ جماعت نہ ہو، وہ سینیٹ میں آتے تو ان کے مقاصد کیا ہیں، ایسےلوگوں کو بے نقاب کرنے کیلئے یہ بل لایا گیا ہے، آئے دن یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اصلاحات چاہئے، یہ کہتےتھےشفاف انتخابات کیلئےالیکٹورل ریفارم لائےجائیں، اب یہ کسی بات کوسننے کیلئے تیار نہ تھے نہ ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پارلیمان کےتقدس کی بات کرتےہیں آج اسی کوپامال کررہےہیں، ہم کرپٹ پریکٹسزکوہمیشہ کیلئےختم کرناچاہتےہیں، یہ اسے دمام  دینا چاہتےہیں، ہم چاہتے ہیں سینیٹ میں شفاف لوگ منتخب ہوکرآئیں ، خریدوفروخت سےآنیوالے کیاوفاق،آئین،عوام کے حقوق کا دفاع کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ایسےلوگ صرف تجوریاں بھریں گےانکامقصدقومی خزانہ لوٹناہے، تاثردیناچاہتےہیں کہ یہ بل اپنےمفاد کیلئےپیش کیا ہے ،تویہ غلط بات ہے، جنہوں نے اپنے ضمیر بیچے تحریک انصاف نے ان کے خلاف ایکشن لیا۔

انھوں نے کہا کہ کبھی نہیں ہواتھاکسی جماعت نےاپنے20ایم پی اےاٹھاکرباہرپھینک دیا، اگرآج بھی چارٹرڈآف ڈیموکریسی تسلیم کرتے ہیں تواب چہرہ کیوں بدلا ہے، سینیٹ میں مؤقف آپ نےپیش کیاتھاتوآج پیچھےکیوں ہٹ رہےہیں، ہم بوسیدہ نظام ختم کرکےبہترنظام لاناچاہتے ہیں۔

سینٹ الیکشن سے متعلق ریفرنس سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نےسپریم کورٹ کومقدم ادارہ سمجھتےہوئےریفرنس داخل کیا، معزز جج صاحبان  سے رائے لی سینیٹ انتخابات پر آئین کیا کہتا ہے ، رائے لی کیا سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوسکتے ہیں، امید ہے اعلیٰ عدلیہ اس پر غور کرکے اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا دوسراراستہ آئین میں ترامیم کاتھاجس کیلئےدوتہائی اکثریت چاہئےہوتی ہے ، ہم چاہتےہیں شفاف انتخابات کےدعویداروں کو بے نقاب کیاجائے، آج قوم دیکھ رہی ہے ان کے کہنےاورکرنےمیں تضاد بےنقاب ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نےکہااللہ کےبعدسب سےبڑی کچہری عوام کی ہے، پوچھناچاہتےہیں سینیٹ میں چورچاہئےیاایسےممبران جوپاکستان کا دفاع  کریں، قوم نےانتخاب کرناہے،ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے، ان کےچارٹرڈآف ڈیموکریسی کومدنظررکھ کرہی انکوامتحان میں ڈالاہے، تاریخ دیکھے گی کہ یہ کس طرف کھڑےہوتےہیں، یہ آج پھرکرپٹ پریکٹسزکاسہارابن رہےہیں۔

وزیر خارجہ پی ٹی ایم کے حوالے سے کہا کہ آج قوم کےسامنےدودھ کادودھ پانی کاپانی ہوگیا اور ان کے چہرےبےنقاب ہوگئے، یہ تو استعفے دینے کیلئے آئے  تھے پھرراتوں رات پتانہیں کیاہوا، یہ بھی ایک راز ہے جو میں کھولنا نہیں چاہتا، منہ پر مارنےوالےآج منہ کی کھارہےہیں، آج سناہےایک بیٹھک ہوگی نئے لانگ مارچ کااعلان کیاجائےگا، کرو اعلان ہم کسی لانگ مارچ سےنہیں ،عوام کےووٹوں سےآئےہیں، ہم آئین میں رہتےہوئےجمہوریت اورپاکستان کا دفاع کرناجانتےہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئےپی ٹی آئی دروازےکھولناچاہتی ہے، یہ لٹیروں کاٹولہ تمہارے لئےراستےبندکرناچاہتاہے، یہ بل پاس ہویانہ ہوہم اپنےاصولی مؤقف پرقائم رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اب کسی پی پی،ن لیگ،جےیوآئی والےکواس بل پربات نہیں کرنےدینگے، آج قوم نےفیصلہ کرناہے،منتخب نمائندوں کاامتحان ہے، یہ بل پاس  ہویانہ ہوہمارامؤقف واضح ہے، ادب سےچلوادب سےچلیں گے ، بات سنو،بات سنیں گے، بات کروبات کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں