The news is by your side.

Advertisement

”حکومت بھارت کے ساتھ تجارت کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے“

سابق وزیرخارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علم میں لایا گیا شہباز حکومت نے ہندوستان کیساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے، اور  بھارت میں کامرس افسر تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جو اقدامات اٹھائے گئے تھے وہ غیرقانونی تھے، وہ اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روح کے برعکس تھے، اس وقت بھی ہمارا سفارتخانہ 50 فیصد پر کام کررہا ہے، حکومت نے تن تنہا بہت بڑا فیصلہ کیا ہے، حکومت بھارت سے تجارت کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے، حکومت کے فیصلے سے کشمیریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلے پر بلاول بھٹو کی خاموشی افسوسناک ہے، لوگ سوال اٹھارہے ہیں، بھارت سے تجارت کی بحالی کے فیصلے پر آزاد کشمیر اسمبلی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پانی کا حساس مسئلہ بھی موجود ہے، اس وقت پانی کاسنگین بحران ہے، سندھ کا ہاری سراپا احتجاج ہے پانی کی شدید قلت ہے، دوسری جانب بھارت نے دریائے چناب پر نیا پراجیکٹ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت نے ڈیزائن شیئر کرنا ہے، لیکن اب تک نہیں کیا، کیا بلاول بھٹو نے اس کا نوٹس لیا؟، یہ نوٹس کون لے گا؟، آپ امریکا جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کیساتھ پانی کے مسئلے پر بات روک دی ہے، ملک کے مختلف حصوں میں پانی کاسنگین بحران ہے،بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب میں پانی کا بدترین بحران ہے، بھارت پاکستان آنے والے دریا پر بجلی کا نیا منصوبہ شروع کررہا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، بلاول بھٹو کوعالمی سطح پر بھارت کی آبی جارحیت کا مسئلہ اٹھانا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید ہے بلاول امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرینگے، ہماری خارجہ پالیسی میں یکسوئی رہی ہے۔

سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے حملے کیے، بلاول خاموش رہے، مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے چڑھائی کی، بلاول کی خاموشی معنی خیز ہے، ان کی طرف سے کیوں مذمت نہیں کی گئی، فلسطین میں نہتے نمازیوں پر تشدد کیا گیا،  بلاول آپ خاموش کیوں ہیں؟، مسئلہ فلسطین پر آپ کی جماعت کا مؤقف بھی رہا ہے، آج وہاں تشدد ہوتا ہے لوگ زخمی ہوتے ہیں آپ خاموش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹے کی قلت ہونے والی ہے، کیا حکومت نے گندم کی درآمد پر کوئی فیصلہ کیا ہے، 2200 روپے من گندم کا سرکاری نرخ ہے، وزیراعظم ماسکو گئے تھے روس سے گندم پر بات کی تھی، روس 2 ملین ٹن گندم دینے کیلئے آمادہ ہوگیا تھا، ملک میں گندم کی پیداوار ضرورت سے کم ہوئی ہے، گندم کی طلب و رسد میں 3 ملین ٹن کا فرق ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکومت نے روس سے سستے داموں تیل کے حصول کی بھی بات کی تھی، خرم دستگیر نے کہا کہ یہ تو باتیں کررہے ہیں، حماد اظہر نے دستاویز پیش کردیئے خرم دستگیر کوغلط ثابت کیا، اس وقت پاکستان میں تیل کا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے، ڈیزل کی شارٹیج ہے کاشتکار بہت پریشان ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں