The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف کا پنجاب کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شامہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پارٹی نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی ائی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کور کمیٹی اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے پی ٹی آئی پنجاب میں ہونے ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی، جبکہ تحریک انصاف کے ارکان استعفوں کی تصدیق کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، ہم اپنے استعفے پیش کرچکے ہیں۔

سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ راناثنااللہ کی دھمکیاں اور غیرسیاسی گفتگو پوری قوم نے سنی، راناثنااللہ عمران خان کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف کو گرفتا رکرنے سے بڑی سیاسی حماقت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری پر خاموش رہیں گے یہ ان کی غلط فہمی ہے، گرفتاری پر شدید ردعمل آئے گا، عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو کارکنوں کو فوری ردعمل دینا ہے، پرامن ردعمل کیلئے کارکن ابھی سے منصوبہ بندی کرکے رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ارکان کا اسپیکر کے سامنے پیش نہ ہونے کا اعلان

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس میں معاشی صورتحال پر تشویش پر اظہار کیا گیا، حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کردیا ہے جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے، حکومتی اقدامات سے ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے، ملک میں افراط زر 25 سے 30 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی میں معاشی سلامتی کی بہت اہمیت ہے، آئی ایم ایف کے دباؤ کے باجود بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی، روس سے سستا تیل اور گندم کی بات چیت ہوئی تھی لیکن موجودہ حکومت روس سے بات کرنے سے گریز کررہی ہے، معیشت کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب سے تجربہ کار حکومت آئی ہے ملک میں آٹے کی قلت ہوگئی ہے، پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1600 روپے کا بک رہا ہے، دیگر اشیا ضروریہ کی چیزوں کی قیمتیں بھی بے قابو ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان سے بات کی تو بہت تنقید کی گئی، اب وہی حکومت اور وزیر خارجہ طالبان سے بات کررہے ہیں، ہماری ہی پالیسیز کو اب آگے بڑھایا جارہا ہے، کیا اب وزیر خارجہ طالبان سے مذاکرات پر کوئی بات کریں گے؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں