The news is by your side.

Advertisement

چیئرمین سینیٹ سے متعلق عباسی صاحب کو ایسابیان نہیں دینا چاہیےتھا، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ سے متعلق عباسی صاحب کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا، وزیراعظم کے بیان سےلوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے کہہ رہے ہیں، محاذ آرائی کی پالیسی نہ اپنائیں، شریف فیملی منی ٹریل پیش کریں،صفائی دیں محاذآرائی نہ کریں۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ ججز واضح کرچکے ہیں، جوڈیشل مارشل لاء کی کوئی گنجائش نہیں ہے، این آراو سے متعلق بھی وضاحت آچکی ہے ، این آر او کا زمانہ چلا گیا،جنہوں نے این آر او کیا وہ پچھتا رہے ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ فریادی والی بات سے متعلق چیف جسٹس کی تردیدآچکی ہے، جنہوں نےاین آراوکیاتھاوہ آج کہہ رہےہیں ہم سےغلطی ہوئی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ امریکہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکامیں ہمارےمنتخب وزیراعظم کی توہین کی گئی ہے، سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن شاہدخاقان عباسی منتخب وزیراعظم ہیں، شاہدخاقان عباسی نجی دورے پر امریکا گئے لیکن ہیں تو وزیراعظم۔

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے دورہ امریکا کو نجی نہیں سمجھتا،پاکستانی حکومت کو امریکا سے واقعے پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی تجاویزکودیکھتےہوئےالیکشن کمیشن تیاری کرے گا، الیکشن سےمتعلق سیاسی جماعتیں بھی اپناآئینی کرداراداکریں گی، نگراں وزیراعظم کیلئے امید ہے وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈرجلدبیٹھیں گے۔

سینیٹ چیرمین سے متعلق وزیراعظم کے بیان پر پی ٹی آئی کے مرکزی وائس چیئرمین نے کہا کہ ہم نے2013 کے انتخابات سے بہت کچھ سیکھا ہے، چیئرمین سینیٹ سے متعلق عباسی صاحب کو ایسابیان نہیں دینا چاہیےتھا، چیئرمین سینیٹ منتخب ہو کر آئےہیں۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کےبیان سے لوگوں کےجذبات مجروح ہوئےہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نےبھی کہابیان واپس لیں ورنہ ہم مارچ کرینگے، عباسی صاحب سےدرخواست ہےاس قسم کی نکتہ چینی زیب نہیں دیتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ خریدوفروخت ہوئی ہے تو حکومت ثبوت پیش کرے، نئی مردم شماری ہوئی ہےحلقہ بندی تو ہونی تھی، حلقہ بندیوں سے متعلق جن کو اعتراض ہےاپیل میں جاسکتےہیں، الیکشن کمیشن اعتراض کرنےوالوں کوسن کرجواب بھی دےگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں