The news is by your side.

Advertisement

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس ، شہباز شریف ایک بار پھر نیب کو مطمئن کرنے میں ناکام

لاہور : آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نیب کو مطمئن نہ کرسکے ، جس کے بعد شہباز شریف کو دو جون کو ریکارڈ سمیت دوبارہ طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈرشہبازشریف آمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر میں پیش ہوئے اور دو گھنٹے تک نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تندو تیز سوالوں کا سامنا کیا۔

نیب ٹیم نے سوال کیا کہ آپ کے اکاونٹ سے بیرون ممالک پانچ مشکوک ٹرانزکشن ہوئیں آپ نے بیوی بچوں کو کتنی مالیت کے تحائف دیئے ، پارٹی فنڈ کی رقم آپکے اکاونٹ میں منتقل ہوئی ، جس پر شہباز شریف جواب نہ سکے۔

نیب ٹیم نے تفتیش کے دوران یہ بھی پوچھا کہ رہائش گاہ کتنے عرصہ تک کیمپ افس رہی، جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خادم اعلی تھے اور عوام کے لیے انہوں نے یہ اقدام اٹھایا۔

نیب حکام شہباز شریف کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہیں دو جون کو دوپہر 12 بجے ریکارڈ سمیت دوبارہ طلب کرلیا۔

خیال رہے نیب نے شہبازشریف کو اس کیس میں تیسری بارطلب کیاگیا تھا اور مطلوبہ دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی تھی، شہباز شریف دونوں مرتبہ ملک میں ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے ، انھوں نے اپنے نمائندے کے ذریعے نیب کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرائی تھیں۔

نیب اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ نیب شہبازشریف کیجانب سے بھیجے گئے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی، قانون کے مطابق ملزم خود پیش ہوں، مطلوبہ معلومات فراہم کریں، اس سے قبل نیب نے شہباز شریف کو17اور22 اپریل کوطلب کیاتھا۔

عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف آج نیب میں پیش ہوں گے اور نیب سوالات کےجوابات دیں گے۔

شہباز شریف کی نیب دفترطلبی کے موقع پر سیکیورٹی سخت انتظامات کئے گئے ہیں، نیب دفترکےباہرپولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ راستے رکاوٹیں لگا کربند کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 22 اپریل کو طلبی پر قومی احتساب بیورو نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تنبیہی پیغام جاری کر کے کہا تھا کہ اگر انھوں نے تعاون نہیں کیا تو ان کے خلاف نیب قانونی راستہ اپنائے گا۔

اس سے قبل 17 اپریل کو بھی انھیں طلب کیا گیا تھا لیکن وہ کرونا وائرس کا عذر کر کے پیش نہیں ہوئے، نیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر مکمل حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں