The news is by your side.

Advertisement

شہبازشریف کا نوازشریف کی صحت پر تشویش اور فکر کا اظہار

لاہور: اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے نوازشریف کی صحت پر تشویش اور فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزراای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود بیرون ملک جاسکتے ہیں، ملک کوجوہری طاقت بنانے والے کو علاج گاہ لیجانے کی اجازت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا نوازشریف کا علاج نہ کراناجرم ہے، بیمارشخص کوسیاسی انتقام کانشانہ بناناصرف کم ظرفی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزراای سی ایل میں نام ہونےکےباوجودبیرون ملک جاسکتے ہیں، ملک کوجوہری طاقت بنانےوالےکوعلاج گاہ لیجانےکی اجازت نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ نوازشریف کو بلاتاخیرعارضہ قلب کےاسپتال منتقل کیاجائے، کسی تاخیر، غفلت اورمجرمانہ لاپرواہی کےذمہ دارعمران خان اوراُن کی حکومت ہوگی۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے دعویٰ کیا تھاکہ نوازشریف کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 4 بار انجائنا کا درد اٹھا مگر حکومت انہیں کوئی طبی امداد فراہم نہیں کررہی۔

مزید پڑھیں : حکومت کا نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ، سابق وزیر اعظم کا انکار: ذرائع

اپنے ٹویٹ میں مریم نواز نے بتایا تھاکہ نوازشریف نےکہا آئندہ وہ اپنی تکلیف کاذکریاشکایت نہیں کریں گے، تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کے ساتھ حکومت بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

بعد ازاں زیراعظم عمران خان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوازشریف کو فوری طور پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی تاہم نواز شریف نے جیل سے اسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے 25 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پرضمانت پررہائی سے متعلق فیصلہ سنایا تھا، فیصلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا نوازشریف کوایسی کوئی بیماری لاحق نہیں جس کاعلاج ملک میں نہ ہوسکے، عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کو جناح اسپتال سے ایک بار پھر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے گزشتہ برس 24 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال قید کی جرمانے کا حکم سنایا تھا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں