site
stats
کھیل

کیا ملکی سیاست صرف ایک دوسرے کی عزت اچھالنا ہے؟ شاہد آفریدی

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست صرف ایک دوسرے کی عزت اچھالنا ہے؟‘ میڈیا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والوں کو کوریج نہ دے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے عائشہ گلالئی کے عمران خان پر الزامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست صرف ایک دوسرے کی عزت اچھالنا ہے؟ ہم دنیا بھر میں اپنا مذاق بنوارہے ہیں۔

شاہد آفریدی نے میڈیا سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ملک کے لیے اپنا اصل کردار نبھائے اور کیچڑ اچھالنے والوں کو کوریج نہ دے۔

آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عزت اور اس کے وقار بڑھانا ہم سب پر لازم ہے مگر افسوس ہم دنیا بھر میں خود اپنا مذاق بنوارہے ہیں۔ سابق کپتان کا تھا کہ ہم سب کو خود کو سنبھالنا ہوگا ہمیں آنے والوں نسلوں کا سوچنا ہے۔

شاہد آفریدی کی اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ میں انگلینڈ میں ہوں لیکن دل پاکستان میں ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے کے باوجود پاکستان کی ہر چیز پر نظر ہوتی ہے، ساری سیاسی جماعتیں بس کرسی کے لیے لڑ رہی ہیں کسی کو ملکی ترقی سے کوئی غرض نہیں اور اگر ہے تو یہ لوگ مل بیٹھ کر ملک کے لیے کام کیوں نہیں کرتے۔

آفریدی نے کہا کہ ایک پاناما چلتا رہا وہ ختم ہوگیا اب عائشہ گلالئی کا کیس آگیا ہے تو کیا ہم اسی طرح ہی لڑتے رہیں گے ہمیں چاہئے کہ ملک کو ترقی کی طرف گامزن کریں۔ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ ہمارے ملک میں جرائم اور بیروزگاری کی اصل وجہ تعلیم کا نہ ہونا ہے، حکومت ان دو چیزوں پر توجہ دے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔

شاہد آفریدی نے سیاست میں آنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی ذمہ داریاں اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے نبھا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہر سیاست دان کو چاہئے کہ کو نچلے طبقے کے لیے کام کرے۔ آفریدی کا کہنا ہے کہ اللہ نے جس کو تھوڑا بہت نوازا ہے اس کو اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں کے لیے کام کرنا چاہئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top