The news is by your side.

Advertisement

شاہد احمد دہلوی: منفرد اسلوب کے حامل ادیب کا تذکرہ

اردو کے صاحبِ طرز ادیب شاہد احمدد ہلوی نے 27 مئی 1999ء کو زندگی کا سفر تمام کیا تھا۔ آج ان کی برسی ہے۔ وہ ایک خاکہ نگار، تذکرہ نویس، مدیر، مترجم اور ماہرِ موسیقی تھے۔

ان کا تعلق ایک ایسے علمی و ادبی گھرانے سے تھا جس نے اردو ادب کو اپنی نگارشات کی صورت میں مالا مال کیا تھا۔ شاہد احمد دہلوی نام وَر ادیب اور ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے، معروف ادیب مولوی بشیر الدین احمد کے فرزند تھے۔

شاہد احمد دہلوی مشہور ادبی مجلّہ ’’ساقی‘‘ کے مدیر تھے۔ موسیقی سے انھیں عشق تھا اور لکھنا پڑھنا ان کا بہترین مشغلہ۔ دہلی کی بامحاورہ زبان اور اس کا چٹخارہ ان کے اسلوب کا خاصہ ہے۔ ان کی دو کتابیں ’’دہلی کی بپتا‘‘ اور ’’اجڑا دیار‘‘ ان کے اسلوب کی انفرادیت اور قلم کی رنگارنگی کی مثال ہیں۔ ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ ’’گنجینۂ گوہر‘‘ 1962ء میں شایع ہوا اور ’’بزمِ خوش نفساں‘‘ اور ’’طاقِ نسیاں‘‘ ان کی وفات کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ ’’دِلّی جو ایک شہر تھا‘‘ اور ’’چند ادبی شخصیتیں‘‘ ان کی دو اہم کتابیں ہیں اور کئی تراجم ان کی زبان دانی اور قابلیت کا نمونہ ہیں۔

شاہد احمد دہلوی نے رسالہ ’’ساقی‘‘ 1930ء میں دہلی سے جاری کیا تھا اور 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے تو یہاں دوبارہ اسی پرچے کا آغاز کیا۔ 1959ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ بنی تو شاہد احمد دہلوی کی کوششیں بھی اس میں شامل تھیں۔ وہ ترقّی پسند تحریک میں شامل رہے اور خوب کام کیا۔

انھوں نے انگریزی کی متعدد کتب اردو زبان میں منتقل کیں۔ ان میں‌ کہانیاں اور بچّوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق کتب اور مضامین بھی شامل ہیں جو ہر لحاظ سے اہم ہیں۔ دہلی گھرانے کے مشہور استاد، استاد چاند خان سے شاہد احمد دہلوی نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ یہاں آئے تو ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے تھے، جہاں وہ ایس احمد کے نام سے موسیقی کے پروگرام پیش کیے۔ شاہد احمد دہلوی نے موسیقی کے موضوع پر بھی لاتعداد مضامین رقم کیے جن کا مجموعہ’’ مضامینِ موسیقی‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔

شاہد احمد دہلوی زبان پر بڑی قدرت رکھتے تھے۔ خصوصاً دلّی کی ٹکسالی زبان پر۔ شاید اس معاملے میں ان کا کوئی حریف نہ تھا۔ ان کا منفرد اسلوب اور ٹکسالی زبان کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ حکومت پاکستان نے شاہد احمد دہلوی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں