The news is by your side.

Advertisement

‘شاہدخاقان کے اسکول جانا ہے جہاں یہ سمجھایا جاتا ہے’

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ وہ کون ساحساب ہےکہ ہم نےخرچہ کم کیا اور نقصان زیادہ کر دیا، میں بھی شاہدخاقان کےاسکول جانا چاہوں گا جہاں یہ حساب سمجھایا جاتا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘دی رپورٹرز’ میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ مارکیٹ میں چل رہا ہےکہہ رہے ہیں 122ارب روپےکا نقصان کر دیا ہم نے57ارب کے کارگو خریدے اور کہا جا رہا ہے 122ارب کانقصان کر دیا۔

ندیم بابر نے کہا کہ کہ وہ کون ساحساب ہےکہ ہم نےخرچہ کم کیااورنقصان زیادہ کردیا، میں بھی شاہدخاقان کےاسکول جانا چاہوں گا جہاں یہ حساب سمجھایا جاتا ہے، آج ڈالر مہنگا مل رہا ہے تو ایڈوانس بکنگ کون کرے گا جبکہ گرمیوں میں سستاہوگا، کوئی بھی ملک ایڈوانس بکنگ ڈالرکی قدردیکھتےہوئےنہیں کرتا۔

انہوں نے بتایا کہ ایل این جی اس وقت تک نہیں منگوا سکتے جب تک خریدارنہ ہوں، ایل این جی کو سیاسی ایشو کے طور پر اپنے مفاد کےلیےاستعمال کیاگیا، ایل این جی کیلئےوہ ڈیمانڈہونی چاہیےجوپوری قیمت اداکرسکے۔

ندیم بابر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ایل این جی سسٹم جہاں لگاوہاں اسٹوریج بھی بنائی گئی ہمارےہاں ایل این جی اسٹوریج پرکوئی توجہ نہیں دی گئی تھی، قانونی ادارےطےکریں ایل این جی غیرقانونی پروجیکٹ تھاتوختم ہو سکتا ہے، ایل این جی ٹرمینل معاملےپر3مرتبہ سی سی آئی میں لےکرگئےہیں جہاں سندھ حکومت معاملےکی مخالفت کرتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں