The news is by your side.

Advertisement

ہم بھی آپس میں اس سے بدتر گفتگو کرتے ہیں: شاہد خاقان کا صحافی کو جواب

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے مریم نواز سے منسوب نئی آڈیو لیک پر ایک ردِ عمل میں کہا ہے کہ سب ہی آپس میں اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں، ہم بھی کرتے ہیں اور اس سے بھی بدتر۔

آج اسلام آباد میں ن لیگی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی، انھوں نے فارن فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر پی ٹی آئی کو ہدف بنایا، اور کہا کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں بڑی تفتیش کی ضرورت ہے، اور عمران خان کو وزیر اعظم رہنے کا حق نہیں ہے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر مریم نواز کی نئی آڈیو لیک پر صحافی نے سوال کیا تو شاہد خاقان عباسی نے جواب میں کہا میں اور آپ جو بات کرتے ہیں وہ ہمارے درمیان رہتی ہے، آخر یہ آڈیو بنانے اور لیک کرنے والے کون لوگ ہیں؟

شاہد خاقان نے کہا کہ ہم بھی آپس میں بات کرتے ہیں، صحافی نے ان سے سوال کیا، کیا آپ آپس میں اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں؟ جس پر شاہد خاقان نے جواب دیا وہ اس سے بھی بدترہوتی ہے۔

قبل ازیں، میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان نے کہا امریکا میں ٹیکسس اور کیلیفورنیا میں پی ٹی آئی کے دفاتر سے کمپنیاں بنائی گئی ہیں، دونوں کے سربراہ عمران خان ہیں، کیا کسی سیاسی جماعت کو اجازت ہے کہ بیرون ملک جا کر کمپنیاں بنائے؟ قانون میں ہے کہ کسی شخص سے پیسہ لے سکتے ہیں لیکن کسی کمپنی سے نہیں، یہ غیر قانونی ہے، لیکن دونوں کمپنیوں کو بیرون ملک فارن ایجنٹ بنایا گیا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ان دونوں کمپنیوں کا ریکارڈ کہیں بھی ظاہر نہیں کیا گیا، کوئی ریکارڈ الیکشن کمیشن یا اسٹیٹ بینک کو نہیں دیا گیا، اسکروٹنی کمیٹی نے امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، ایک کمپنی کا 1.3 ملین ڈالر کا ریکارڈ ملا، پاکستان میں اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا، 50 سے زائد چیپٹر ہیں جو پی ٹی آئی کو پیسہ بھیجتے ہیں۔

انھوں نے کہا ایک ٹرانزیکشن ہے 21 لاکھ ڈالر کی، جو دبئی کی کرکٹ کمپنی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں بھیجی، کوئی سیاسی جماعت کسی کمپنی سے کوئی روپیہ حاصل نہیں کر سکتی، پی ٹی آئی اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے آئے، پی ٹی آئی دفتر کے 4 ملازمین کو ذاتی اکاؤنٹس سے پیسے لینے کا اختیار دیا گیا، ذاتی اکاؤنٹس کے استعمال کی کیا ضرورت تھی کیا ان کے اپنے اکاؤنٹس نہیں تھے۔

شاہد خاقان نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں بڑی تفتیش کی ضرورت ہے، اور عمران خان کو وزیر اعظم رہنے کا حق نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں