site
stats
اہم ترین

آزاد فلسطینی ریاست کے لیے مسلم ممالک کو جدوجہد کرنا ہوگی، شاہد خاقان

استنبول: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، امریکا اپنا فیصلہ واپس لے، آزاد فلسطینی ریاست کے لیے مسلم ممالک کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر کی جانب سے بلائے جانے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ القدس شریف سے متعلق آج غیر معمولی وقت ہے، امریکا کا یروشلم کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکادوریاستی حل کادوبارہ اعادہ کرے، شاہد خاقان عباسی نے حکومت اور فلسطینی عوام کے ساتھ غیر مشروط حمایت کا اعلان بھی کیا۔

مزید پڑھیں: امریکی فیصلہ مشرق وسطیٰ میں آگ لگا دے گا، ترک و روسی صدور کی پریس کانفرنس

 

اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو  آزاد فلسطینی ریاست کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، بیت المقدس کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ بنانے کے لیے امت مسلمہ اور او آئی سی کا واحد اور متفقہ روڈ میپ ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’سلامتی کونسل بیت المقدس کے معاملے پر منصفانہ کردار ادا کرے اگر  اس ضمن میں کوئی اقدام نہ کیا گیا تو عالمی ادارے کا کردار سوالیہ نشان بن جائے گا‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر سلامتی کونسل نے یروشلم تنازع پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے تو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے معاملہ جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے  اور یہ معاملہ عالمی عدالت میں بھی لے جایا جاسکتا ہے جبکہ او آئی سی  اسرائیلی تسلط ختم کروانے کے لیے اقتصادی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یروشیلم تنازع: دنیا بھر میں مظاہرے، 4 فلسطینی شہید

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اور پارلیمنٹ نے اسلامی دنیا کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا کیونکہ پاکستان قابلِ عمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے یروشلم کے معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے پر ترک صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم متحدہ ہوکر عوام کو امید کا پیغام دیں گے، اسرائیل 70 سال سے اسی طرح کے اقدامات کررہا ہے‘۔

ویڈیو دیکھیں

یاد رہے کہ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top