The news is by your side.

سارہ کا بے دردی سے قتل : والد نے بڑا مطالبہ کردیا

اسلام آباد: مقتولہ سارہ کے والد انجینئر انعام رحیم نے مطالبہ کیا ہے کہ سارہ کو بے دردی سے قتل کرنے پر شاہنواز کو عبرت کا نشان بنایا جائے ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کرتے ہوئے مقتولہ سارہ انعام کے والد انجینئر انعام الرحیم نے کہا کہ شاہنواز نے سارہ سے وقتا فوقتا پیسوں کا تقاضاکرتا رہا، ایسے بے ایمان لوگ معصوم لڑکیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔

انعام رحیم کا کہنا تھا کہ سارہ کو پلان کے تحت قتل کیا ،اس گھر میں شاہنواز اس کی ماں اور میری بیٹی تھی کہا جارہا ہے ایاز امیر چکوال میں تھے، سارہ انعام آخری مرتبہ ہم سے ملنے سے پہلے ابو ظبی میں تھی۔

مقتولہ کے والد نے مطالبہ کیا کہ سارہ کو بے دردی سے قتل کرنے پر شاہنواز کو عبرت کا نشان بنایا جائے ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہم چاہتے تھے سارہ کی شادی کی باقاعدہ تقریب کی جائے، شاہنواز کا ہمیں ایک ہی تعارف تھا کے صحافی ایاز امیر کا بیٹا ہے۔

سارہ کے والد نے کہا کہ بچی کے بینک اکاؤنٹس ابوظہبی میں ہے، اس لیے ڈیٹیل ملنے میں مشکلات ہیں، عدالتی نظام ایسا کیا جائے کہ ہمیں جلد انصاف ملے۔

انعام رحیم نے میڈیا کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ سارہ تین بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ،دوہزار میں ہم کینیڈاچلے گئے سارہ پڑھنے میں قابل تھی اس نے اکنامکس میں ماسٹرکیا اور یو بی ایل اور یوایس ایڈ میں جاب کی۔

سارہ کے والد کا کہنا تھا کہ وہ ابوظہبی میں بھی جاب کرتی رہی، شادی کے لیے رشتے آئے لیکن اس کی توجہ کیریئر پر تھی ،جولائی کے آخری ہفتے میں معلوم ہوا کہ سارہ نے شادی کرلی ،ہمیں شادی کا معلوم ہوا تو حیران ہوئے ،

انعام رحیم نے بتایا کہ شادہ پر سارہ نے کہا کہ وہ 38سال کی ہے وہ اپنا فیصلہ خود کرسکتی یے ، ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز کا معلوم ہوا تو ہمارا اعتماد بحال ہوا ،واقعے کے بعد اس کی ماں نے کال کرکے سارہ کی تعریفیں کیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں